آصف زرداری کے قریبی ساتھی ڈاکٹر عاصم گرفتار‘ پیپلز پارٹی کے حلقوں میں کھلبلی مچ گئی

August 27, 2015 4:19 pm0 commentsViews: 30

گرفتاری اس وقت عمل میں آئی جب ڈاکٹر عاصم کلفٹن میںواقع ہائر ایجوکیشن کے دفتر سے اجلاس میں شرکت کیلئے پہنچے تھے
ڈاکٹر عاصم چار روز قبل ہی دبئی سے کراچی آئے تھے ان کے خلاف بدعنوانیوں کی انکوائریاں چل رہی تھیں
کراچی( اسٹاف رپورٹر) سابق صدر آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی سندھ ہائر ایجوکیشن کے چیئر مین ڈاکٹر عاصم حسین کو کراچی سے گرفتار کرلیا گیا۔ ان کی گرفتاری سے پیپلز پارٹی کے حلقوں میں کھلبلی مچ گئی۔ ڈاکٹر عاصم حسین کو کلفٹن میں واقع ہائر ایجوکیشن کے دفتر سے اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ ایک اجلاس میں شرکت کیلئے پہنچے تھے۔ جہاں پر دو تحقیقاتی اداروں کے11افراد پر مشتمل ٹیم ان کے دفتر پہنچی پوچھ گچھ کے بعد اہم دستاویزات کے ساتھ ڈاکٹر عاصم حسین کو اپنے ساتھ لے گئی۔ سابق وزیر پیٹرولیم اور سندھ ہائر ایجوکیشن کے چیئر مین ڈاکٹر عاصم حسین چار روز قبل ہی دبئی سے کراچی پہنچے تھے۔ ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری کے حوالے سے انکشاف ہوا ہے کہ تحقیقاتی اداروں کی جانب سے ایک ماہ قبل انہیں خط لکھ دیا گیا تھا جس میں ان سے پیش ہو کر ایل این جی سمیت پیٹرولیم کے دیگر ٹھیکوں سے متعلق تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی تھی۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹر عاصم حسین کے خلاف بحیثیت وزیر پیٹرولیم مختلف ٹھیکوں میں بڑے پیمانے پر کرپشن اور قواعد و ضوابط کو نظر انداز کرکے من پسند افراد کو ٹھیکے دینے کے علاوہ بد عنوانیوں کے دیگر الزامات تھے۔ جن میں ایک مقدمے میں ڈاکٹر عاصم حسین ضمانت کے بعد بیرون ملک چلے گئے تھے۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹر عاصم حسین کے خلاف تحقیقاتی اداروں نے اہم شواہد اکٹھے کر لئے گئے ہیں اور اب ان کے خلاف با قاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ سادہ لباس میں اہلکار اچانک کلفٹن میں واقع ہائر ایجوکیشن کمیشن کے دفتر پہنچے اور ڈاکٹر عاصم کا انتظار کیا اور ان کے آتے ہی پوچھ گچھ شروع کر دی۔ ایک گھنٹے تک تفتیش کے بعد اہلکار ڈاکٹر عاصم کو اپنے ساتھ لے گئے۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹر عاصم حسین کے خلاف متعدد انکوائریز چل رہی تھیں۔ ان پر رشوت کے عوض سی این جی لائسنس جاری کرنے اور محکمے میں اربوں روپے کی خرد برد کرنے کے الزامات ہیں۔

ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری معمہ بن گئی
کسی ادارے نے گرفتاری کی تصدیق نہیں کی
کراچی( مانیٹرنگ ڈیسک) سندھ ہائر ایجوکیشن کے چیئر مین ڈاکٹر عاصم حسین کہاں ہیں کس نے گرفتار کیا ۔ حراست معمہ بن گئی۔ پولیس اور ایف آئی اے نے ان کی گرفتاری سے لا علمی کا اظہار کیا ہے۔ نے بھی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی ہے۔

ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری قابل مذمت ہے حکومت کو خطرات لاحق ہوجائیں گے پیپلزپارٹی
جبر و جرم سے ریاستی ادارے تباہ ہوجاتے ہیں، اس طرح حکومت نہیں چل سکتی، خورشید شاہ
حکومت کو اعتماد میں نہیں لیاجاتا اور کارروائی کی جاتی ہے، اپوزیشن لیڈر کی بات چیت
اسلام آباد( نیوز ڈیسک) پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنمائوں نے کہا ہے کہ ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری قابل مذمت ہے‘ ان کو حراست میں لینا ٹھیک اقدام نہیں‘ حکومت کو خطرات لاحق ہوجائیں گے‘ تفصیلات کے مطابق قائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری قابل مذمت ہے‘ ملک میں کیا ہورہا ہے ایسے اقدامات سے حکومت کو خطرات لاحق ہوجائیں گے کیوں کہ جبر و جرم سے ریاستی ادارے تباہ ہوجاتے ہیں‘ حکومت کو اعتماد میں نہیںلیاجاتا اور کارروائی کیجاتی ہے‘ اداروں کو سوچنا ہوگا کہ جبر وطاقت سے ریاست نہیں چل سکتی‘ ریاست کے اندر ریاست کا تاثر دیا جارہا ہے‘ اداروں کی مداخلت حکومت کو لے ڈوبے گی‘ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عاصم مجرم نہیں انہیں تفتیش کیلئے لے جایا جارہا ہے۔

سندھ کے سیاست دانوں اور افسران کیخلاف گھیرا تنگ ہو رہا ہے
ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری اور چیف سیکریٹری کے ضمانت کرانے کے بعد سرکاری دفاتر میں ہلچل
زرداری کے ساتھی انور مجید کے گرد گھیرا تنگ ہو رہا ہے، ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری سندھ پیپلزپارٹی کیلئے بڑا دھچکا ہے
کراچی( نیوز ڈیسک) ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری اور چیف سیکریٹری سندھ محمد صدیق میمن کی حفاظتی ضمانت کرانے کی وجہ سے حکومت سندھ کے سرکاری دفاتر میںہلچل مچ گئی ہے۔ اہم سیاسی شخصیات اور اعلیٰ سرکاری افسران مزید خوفزدہ ہوگئے۔ جب سے سیاست دانوں اور سرکاری افسران کے خلاف مختلف الزامات اور شکایت کے حوالے سے تحقیقات کی جا رہی ہے ان کو اپنے ارد گرد گھیرا تنگ ہوتا محسوس ہو رہا ہے اور سرکاری افسران چیف سیکریٹری کو دیکھا دیکھی اپنی حفاظتی ضمانت کرانے کیلئے سر گرم ہوگئے ہیں۔ اب ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری پر پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کو بڑا جھٹکا لگا ہے اور اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کھل کر کہا ہے کہ اداروں کے اندر اداروں کی مداخلت خطرناک نتائج نکلیں گے، ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری پر حکومت کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ سیاسی اور سرکاری حلقوں میں مزید گرفتاریوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے محکمہ خزانہ سندھ کے افسران کے خلاف بھی گھیرا تنگ کئے جانے کی اطلاعات ہیں جبکہ سابق صدر آصف زرداری کی قربت رکھنے والی مزید شخصیات کو بھی پوچھ گچھ کے عمل میں شامل کئے جانے کی اطلاعات گردش کر رہی ہیں۔ جن میں انور مجید کا نام سب سے نمایاں ہے۔

 

Tags: