گلستان جوہر میں حبیب یونیورسٹی پر دہشتگردوں کا مارٹر گولوں سے حملہ!

September 1, 2015 1:52 pm0 commentsViews: 24

پہلوان گوٹھ کے قریب واقعے یونیورسٹی میں ہونے والے دھماکے سے دو افراد زخمی ہوئے‘ ہوائی فائرنگ سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا
پولیس رینجرز اور حساس اداروں کا علاقے کی کچی آبادیوں میں سرچ آپریشن دو درجن سے زائد مشتبہ افراد کو پوچھ گچھ کیلئے حراست میں لے لیا
کراچی(کرائم رپورٹر)گلستان جوہرمیںقائم حبیب یونیورسٹی میں نامعلوم دہشتگردوں نے دو مارٹر گولے داغ دیئے، جس کے پھٹنے سے دو افرادزخمی ہوگئے ،جبکہ ہوائی فائرنگ سے خوف وہراس پھیل گیا ،پولیس ،رینجرز اور حساس اداروں کے افسران جائے وقوعہ پر پہنچ گئے،رینجرزاور پولیس نے کچی آبادی کا سرچ آپریشن شروع کرتے ہوئے دودرجن سے زائد مشتبہ افراد کوحراست میں لے لیا ، تفصیلات کے مطابق شاہراہ فیصل کے علاقے گلستان جوہر پہلوان گوٹھ کے قریب حبیب یونیورسٹی کے قریب شدید فائرنگ اور زور دار دھماکے سے خوف وہراس اور کشیدگی پھیل گئی، اس اطلاع پر رینجرز ،پولیس،حساس اداروں افسران اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کا عملہ جائے وقوعہ پرپہنچ گیا ،دھماکے میں زخمی ہونے والے دو افراد عبدالرحمان اور حبیب زخمی ہوگئے جن کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا ،تحقیقاتی اداروں نے جائے وقوعہ کو بندکرکے کرائم سین محفو ظ کرلیا ،ایس ایس پی جاوید جسکانی نے بتایاکہ ابتدائی خبر مارٹر گولے کی ملی تھی اور اس کے بعد معلوم ہواکہ دو کریکر بم دھماکے ہوئے ،تاہم کافی جدوجہد کے بعد معلوم ہوا کہ یونیورسٹی کے اندر کچھ بھی نہیںہوا تھا یونیورسٹی کے عقبی دیوار کے ساتھ کچر ا کنڈی اور نالا ہے اس میں کوئی دھماکہ خیز مواد پھٹا تھا جس کی وجہ سے خوف وہراس پھیلا ، ،بم ڈسپوزل اسکواڈ کے افسر نے بتایاکہ ابتدائی تفتیش کے دوران کریکر بم دھماکہ معلوم ہوا ہے،مارٹر گولے کے حوالے سے کوئی شواہد نہیں ملے ،انہوں نے کہا زمین میں گڑا نہیں ہوا دیوار کو نقصان پہنچا ہے ،اندھیرا ہونے کے باعث کافی شواہد اکٹھا نہیں ہوسکے ،بی ڈی ٹیم منگل کی صبح دوبارہ تفتیش کا عمل شروع کریں گی ،اس کے بعد ہی معلوم اصل صورتحال معلوم ہوسکے گی، جبکہ ایک اہم ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ مارٹن گولہ ہی یونیورسٹی میں داغا گیا ہے جو یونیورسٹی کے گرائونڈ میںآکر گرجس کی وجہ سے زور داردھماکہ ہوا، مارٹرگولے کا عقبی حصہ قانون نافذکرنے والے اداروں نے مارٹر گولے کا عقبی حصہ اپنے تحویل میں لے لیا ،ذرائع کا کہنا ہے کہ معلوم کیا جارہا ہے کہ دہشتگردوں کاہدف یونیورسٹی تھا یا ائیرپورٹ ،یونیورسٹی اور ائیر پورٹ کے درمیان تھوڑاسا ہی فاصلہ ہے ،پولیس اور بی ڈی واقعہ کے حقائق چھپانے کی کوشش کررہی ہے ،ڈی آئی جی ایسٹ منیر شیخ نے بھی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ دہشتگردں نے دو مارٹر گولے داغے جن کے پھٹنے سے دومزدور زخمی ہو ئے ،جبکہ یونیورسٹی کے ترجمان سبطین نقوی کا کہنا ہے کہ یونیوررسٹی میں کوئی حملہ نہیں ہوا نہ ہی کسی نے کوئی دھمکی دی تھی ،‘واقعہ کے بعدائیر پورٹ کی سیکورٹی میں مزید اضافہ کرتے ہوئے سیکورٹی سخت کردی گئی جبکہ یونیورسٹی اور اطراف کے علاقوںمیں بھی سیکورٹی سخت کرکے اسنیپ چیکنگ کا سلسلہ شروع کردیا ،جبکہ رینجرزاور پولیس نے پہلوان گوٹھ اسکے اطراف میںقائم کچی آبادی کا سرچ آپریشن کرتے ہوئے دون سے زائد مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا ۔

Tags: