بلدیہ عظمیٰ اور ضلعی بلدیاتی اداروں میں محکموں کا تنازع ہزاروں ملازمین کا مستقبل دائو پر لگ گیا

September 1, 2015 2:26 pm0 commentsViews: 27

کے ایم سی کا محکمہ تعلیم اور صحت منتقل کرنے کیلئے دبائو‘ ڈی ایم سیز کا محکمہ لوکل ٹیکس منتقل کرنے پر اصرار
ہر ڈی ایم سی کے حصے میں 2 ہزار ملازمین آئیں گے مگر ان کی تنخواہ کسی بھی طور ڈی ایم سیز کیلئے ممکن نہیں
کراچی(رپورٹ/فرید عالم)بلدیہ عظمیٰ کراچی اور ضلعی بلدیاتی اداروں کے درمیان محکموں کی منتقلی کا کا م حال مکمل نہ ہوسکا،ضلعی بلدیاتی افسران کا محکمہ لوکل ٹیکس کے بغیر کوئی بھی محکمہ لینے سے انکار،کے ایم سی اور ڈی ایم سیز کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے کے ایم سی کا محکمہ تعلیم اور ہیلتھ منتقل کرنے کے لیئے دبائو جبکہ ڈی ایم سیز کا محکمہ لوکل ٹیکس منتقل کرنے پر اصرار،اعلیٰ افسران کی غیر سنجید گی نے ہزاروں ملازمین کا مستقبل دائو پر لگا دیا تفصیلات کے مطابق بلدیہ عظمیٰ کراچی اور شہر کے چھ ضلعی بلدیاتی اداروں کے درمیان رواں ماہ سابق ایڈمنسٹریٹر شعیب صدیقی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کے تحت وسائل ، سرمایہ اور ذمہ داریوں کی تقسیم پر طویل اجلاس منعقد ہوا تھاجس میں بلدیہ کراچی کے محکمہ قانون کے افسران وماہرین قانون نے ایس ایل جی ایس 2013 کی ان دفعات کے تحت لوکل ٹیکسز ،تعلیم اور تمام ڈسپنسریاں اور میٹرنٹی ہوم ان محکموںکے تمام ملازمین سمیت ڈی ایم سیز کو منتقل کر دی جائیںتاہم مقررہ معیاد گذرجانے کے باوجود مذکورہ محکموں کو تاحال ڈی ایم سیز کو منتقل نہیں کیا جا سکا ہے ذرائع کے مطابق اجلاس کے ایک روز بعد ہی سپریم کورٹ کے اپنے ایک حکم کے ذریعے محکمہ لوکل ٹیکس کی ڈی ایم سیز کو منتقلی روک دی جس کے بعد ڈی ایم سیز نے گذشتہ دنوں میونسپل کمشنر کے ساتھ ہونے والے ایک اجلاس میں محکمہ لوکل ٹیکس کے بغیر تعلیم اور ہیلتھ کا محکمہ لینے سے انکار کر دیا‘ ذرائع کا کہنا ہے کہ ہر ڈی ایم سی کے حصے میں تقریبا دو ہزار ملازمین آ رہے ہیں جن کی تنخواہ ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک کروڑ پچھتر لاکھ روپے بنتی ہے جس کی ادائیگی کسی طور پر بھی ڈی ایم سیز کے لیئے ممکن نہیں ہے۔واضح رہے سابق ایدمنسٹریٹر نے مذکورہ تمام محکموں کی ڈی ایم سیز کو منتقلی کے لئے ، میٹروپولیٹن کمشنر سمیع الدین صدیقی کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی تھی کمیٹی تاحال اس سلسلے میں کوئی ٹھوس اقدامات کر نے میں ناکام ہو چکی ہے۔

Tags: