سندھ حکومت احتساب سے نہیں گھبراتی جدوجہد کرنا جانتے ہیں نثار کھوڑو

September 1, 2015 2:39 pm0 commentsViews: 20

احتساب اور کارروایاں یکطرفہ نہیں ہونی چاہئے یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ کرپشن صرف سندھ میں ہے جو درست نہیں ہے
پنجاب حکومت کے خلاف کارروائیاں اس لئے نہیں کی جارہیں کہ وہاں وزیراعظم کے بھائی کی حکومت ہے
اشتہارات کی تقسیم میں میرٹ کا خیال رکھا جائے گا صوبائی وزیر اطلاعات کا کراچی میں میٹ دی ایڈیٹرز سے خطاب
کراچی( اسٹاف رپورٹر) سینئر وزیر اطلاعات سندھ نثار احمد کھوڑو نے کہا ہے کہ سندھ حکومت احتساب سے نہیں گھبراتی اور نہ ہی احتساب کے خلاف ہے احتساب اور کارروائیاں یکطرفہ کی جائیں گی تو برداشت کرنا بھی جانتے ہیں اور جدوجہد کرنا بھی جانتے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو کونسل آف نیوز پیپر ایڈیٹرز سے میٹ دی ایڈیٹرز کے موقع پر خطاب اور مختلف سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سی سی پی این ای کے قائم مقام صدر الیاس شاکر، سیکریٹری جنرل ڈاکٹر عبدالجبار خٹک، قاضی اسد عابد، عامر محمود سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ سندھ میں سیلاب آتا ہے تو بعض عناصر کو کالا باغ ڈیم تعمیر کا خیال آتا ہے۔ کرپشن کی بات ہوتی ہے تو صرف یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ کرپشن صرف سندھ میں ہے انہوں نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے یہ تاثر دینے والوں کو پنجاب، بلوچستان، اور کے پی کے میں کرپشن کیوں نظر نہیں آتی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اور سوال کیا کہ کیا سندھ کو پاکستان بنانے کی سزا دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کے خلاف اس لئے کارروائی نہیں کی جا رہی کیونکہ پنجاب حکومت وزیر اعظم میاں نواز شریف کے بھائی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیا واپڈا، پی آئی اے سمیت دیگر وفاقی اداروں میں کرپشن نہیں ہے؟ ان اداروں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جا رہی۔ نثار کھوڑو نے کہا کہ ایف آئی اے اور نیب وفاقی اداروں کے خلاف کارروائی کرنے کے مجاز ہیں۔ لیکن شیڈول فورتھ میں ترمیم کرکے ہر جگہ کارروائی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کی جانب سے رائٹ آف انفارمیشن کا قانون تیار کیا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں سی پی این ای سے بھی تجاویز طلب کی جائیں گی۔ جو کہ بعد میں سندھ کابینہ اور سندھ اسمبلی میں منظوری کیلئے پیش کیا جا ئے گا۔ انہوں نے کہا کہ اشتہارات کی تقسیم میں میرٹ کا خیال رکھا جائے گا اور ساتھ ہی چھوٹے اخبارات جن کے حقیقی طور پر ادارے موجود ہیں ان کو بھی ساتھ لے کر چلیں گے تا کہ کوئی بھی ادارہ بند نہ ہو۔

Tags: