پیپلز پارٹی پر حملہ وزیر اعظم کی طرف سے ہوا زرداری کو ملنے کا شوق نہیں ہے خورشید شاہ

September 2, 2015 3:56 pm0 commentsViews: 26

دہشتگردی میں سب سے زیادہ مار پیپلز پارٹی نے کھائی ہے تو کیا ہمیں دہشت گردوں کا حمایتی کہنا شرم کی بات نہیں ہے؟
پارلیمنٹ میں رہ کر قانونی جنگ لڑینگے‘ الیکشن کمیشن کے ارکان مستعفی ہوجائیں‘ پیٹرولیم مصنوعات میں معمولی کمی مسترد کرتے ہیں
اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک) قومی اسمبلی میںقائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے کہا ہے کہ وہ آرمی چیف اور دوسرے اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ نظام کو بہتری کی طرف چلنے دیا جائے کیونکہ ریاست ہے تو ادارے ہیں اور ریاست نہیں تو ادارے بھی نہیں ہوں گے۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ رینجرز کو وفاق نے اختیارات آئین کے تحت دئے اور آئین کے تحت سندھ حکومت مجبور ہے۔ دہشت گردی میں سب سے زیادہ مار پیپلز پارٹی نے کھائی پھر بھی ہمیں دہشت گردوں کا حمایتی کہنا کیا شرم کی بات ہے۔ نواز شریف کو خود کہنا چاہئے کہ پی پی پر یہ الزام غلط ہے۔ قائد حزب اختلاف نے کہا کہ پیپلز پارٹی پر حملہ وزیر اعظم کی طرف سے ہوا ہے۔ آصف زرداری اور ان کی پارٹی نے صرف دفاعی جوابات دئے اور اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ انہیں نواز شریف سے ملاقات کا کوئی شوق نہیں۔ حملہ نواز شریف کی طرف سے ہوا ہے۔ وہ اگر خود ملنا چاہیں تو ضرور ملیں گے۔ خورشید شاہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی کرپشن کی کبھی حمایت نہیں کرے گی۔ نواز شریف بتائیں کہ بلوچستان کرپشن سے صاف ہے۔ خیبر پختونخوا میں2 وزیر پکڑے گئے،۔ کیا کچھ ہوا،۔ پنجاب کا وزیر بھی پیسے لیتا پکڑا جاتا ہے لیکن کچھ نہیں ہوتا۔ یہ سندھ کے خلاف انتقامی کارروائی نہیں تو کیا ہے۔ صرف ڈاکٹر عاصم کو ہی نہیں پنجاب کے دہشتگرد وزیر کو بھی پکڑنا چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے جنگ لڑنے کا مطلب بندوق نہیں لفظوں اور قانون کی جنگ ہے ہم پارلیمنٹ سے استعفے دینے والوں میں سے نہیں تمام جنگ پارلیمنٹ میں رہ کر لڑیں گے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن ارکان مستعفی ہوجائیں کیونکہ ماہانہ9 لاکھ روپے عزت کے آگے کوئی بڑی چیز نہیں۔ یا پھر وہ کم از کم قوم سے معافی ہی مانگ لیں۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے ارکان وہ بات بتا دیں جو خورشید شاہ نے اان کے خلاف کی ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونیوالی معمولی کمی کو مسترد کرتے ہیں۔ عوام کو ریلیف دیا جانا چاہئے۔

Tags: