شاعر، ادیب اور دانشور کے بغیر ملکی ترقی ناممکن ہے، اسماعیل راہو

September 2, 2015 4:16 pm0 commentsViews: 28

شعر و ادب کی محافل کا انعقاد ہی ہمارا تاریخی ورثا ہے، ہمارا رشتہ قرطاس و قلم سے جڑا ہو ا ہے
مسلم لیگ (ن) کے زیر اہتمام آل پاکستان کے مشاعرے سے منور رضا اور طارق نذیر کا خطاب
کراچی( اسٹاف رپورٹر) جس معاشرے کی پشت پر شاعر، ادیب اور دانشور کھڑے ہوں اسے ترقی سے کوئی نہیں روک سکتا۔ لیکن اگر کوئی معاشرہ اہل علم و دانش کی سرپرستی سے محروم ہوجائے تو پھر اسے تباہی سے بھی کوئی نہیں بچا سکتا۔ ان خیالات کا اظہار مسلم لیگ ن سندھ کے صدر اسماعیل راہو نے گزشتہ روز پاکستان مسلم لیگ ن کراچی ڈویژن کے زیر اہتمام مسلم لیگ ہائوس میں جشن آزادی کے حوالے سے اردو کے معروف شاعر رسا چغتائی کی زیر صدارت منعقد کئے گئے ’’آل پاکستان محفل مشاعرہ ‘‘ کے معزز مہمانوں اور شرکاء سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا مشاعرے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کراچی ڈویژن کے صدر سید منور رضا نے کہا کہ شعر و ادب کی محافل کا انعقاد ہی ہمارا تاریخی ورثہ ہے کلاشنکوف کلچر نے ہماری اصل شناخت ہی ہم سے چھین لی تھی اب ہم مسلم لیگ کو اس کا کھویا ہوا مقام واپس دلوا کر دم لیں گے۔ کراچی ڈویژن کے جنرل سیکریٹری خواجہ طارق نذیر نے کہا کہ جب تک ہمارا رشتہ قرطاس و قلم سے جڑا رہا ہم نے ہر میدان میں کامیابی حاصل کی۔ محفل مشاعرہ سے شاہ محمد شاہ، علی اکبر گجر، دین محمد لغاری اور ناصر الدین محمود نے بھی خطاب کیا جبکہ سینیٹر سلیم ضیاء، سینیٹر نہال ہاشمی کے علاوہ عمائدین شہر اور سینکڑوں مسلم لیگی کارکنوں نے شرکت کی۔ بعد ازاں آل پاکستان محفل مشاعرہ میں صدر مشاعرہ، رسا چغتائی، فہمیدہ ریاض، انور شعور، ڈاکٹر فاطمہ حسن، اعجاز رحمانی، راشد نور، اختر سعید، شہناز نور، حسن علی حسن، اجمل سراج، سلمان صدیقی، محمد مختار علی، فاضل جمیلی، اے ایچ خانزادہ، خالد معین، مظہر بانی، حسنین حیدر جلیسی سعید آغا ، عمیر علی انجم، یامین اختر، اقبال شاہ خٹک، احمد جان اور ایوب علی نے اپنا کلام پیش کیا۔ نظامت کے فرائض راشد نور نے انجام دئیے۔