مدارس کا تمام تر لین دین بینکوں کے ذریعے کیا جائیگا دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کرینگے‘ وزیراعظم

September 8, 2015 1:31 pm0 commentsViews: 31

ایک دوسرے کو کافر کہنے‘ قتل پر اکسانے اور نفرت انگیز تقاریر کرنے پر حکومت کارروائی کرے گی‘ مدارس کی رجسٹریشن کیلئے کمیٹی کی تشکیل
اکیسویں ترمیم سے مذہبی دہشت گردی کا لفظ ختم کردیا جائے گا‘ اتحاد تنظیم المدارس اور حکومت کے درمیان دواہم اجلاسوں کا انعقاد
اسلام آباد( نیوز ایجنسیز) حکومت اور پاکستان کے دینی مدارس کی پانچ تنظیموں اتحاد تنظیمات المدارس نے اس بات پر فیصلہ کیا ہے کہ مدارس کا تمام تر لین دین بینکوں کے ذریعے ہوگا۔ کافر کہنے، قتل پر اکسانے اور نفرت انگیز تقاریر پر حکومت کارروائی کرے گی۔ اتحاد تنظیمات المدارس کے علماء نے وزیر اعظم کو نیشنل ایکشن پلان پر عملدر آمد کیلئے غیر مشروط حمایت کا یقین دلایا اور کہا کہ ہم دہشت گردی کے خاتمے کیلئے حکومت کے ساتھ ہیں۔ آڈٹ اور غیر ملکی اور ملکی عطیات کے حوالے سے حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کیا جائے گا، حکومت اور علماء نے 21 ویں ترمیم سے مذہبی دہشت گردی کا لفظ ختم کر نے، مدارس کی رجسٹریشن اور مدارس کے بجائے پورے تعلیمی نظام میں اصلاحات لانے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ْ گزشتہ روز اتحاد تنظیمات المدارس اور حکومت کے مابین دو اہم اجلاس ہوئے۔ پہلا اجلاس مدارس کے نمائندوں، وزیر داخلہ چوہدری نثار اور دیگر وفاقی وزراء کے مابین ہوا۔ بعد ازاں دوسرے اجلاس کی وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے صدارت کی۔ وزیر اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کا ملک میںخاتمہ کیا جائے گا۔ بعد ازاں پریس کانفرنس میں وزیر داخلہ چوہدری نثار نے بتایا کہ اجلاس کے دو ادوار ہوئے ہیں پہلے کی میں نے جو جبکہ دوسرے کی وزیر اعظم نے صدارت کی جس میں آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں تمام مکاتب فکر کے علماء موجود تھے۔ دس ستمبر کو دوبارہ اجلاس ہوگا جس میں چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ شرکت کرینگے۔ چوہدری نثار نے کہا کہ اجلاس میں دہشت گردی کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی گئی اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ تمام سیاسی جماعتیں اور مذہبی اکابرین دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے شانہ بشانہ کوششیں کریں گے۔ کسی قسم کے دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث پائے جانے والے فرد یا ادارے کے خلاف بلا تفریق کارروائی کی جائے گی۔ مدارس کی آسان رجسٹریشن کیلئے متعلقہ وفاقی و صوبائی محکموں، اداروں اور مدارس پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جو وزارت داخلہ کے ماتحت ہوگی، کمیٹی اتفاق رائے سے ایک جامع رجسٹریشن فارم بنائے گی تا کہ تمام کوائف ایک ہی وقت میں حاصل ہو سکیں اور اس کیلئے پہلے مرحلے میں تین ماہ کا وقت مقرر کیا گیا ہے تمام مدارس آڈٹ رپورٹ دیں گے۔ سب نے اتفاق کیا کہ مدارس کو بیرونی فنڈنگ کے حوالے سے حکومت طریقہ کار وضع کرے گی۔

Tags: