حکومت کیلئے مشکلات مزید بڑھ گئیں پیپلزپارٹی کا بھی استعفوں پر غور

September 8, 2015 1:34 pm0 commentsViews: 22

پیپلزپارٹی نے مسلم لیگ (ن) کی شدت سے مخالفت کرنے اور اپوزیشن جماعتوں سے رابطے بڑھانے کا فیصلہ کرلیا
پی پی کے خلاف کارروائیاں اور ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری تشویشناک ہے، دبئی میں آصف زرداری کی زیرصدارت اجلاس، پارٹی کے شریک چیئرمین کا سندھ کے وزراء کی خراب کارکردگی پر برہمی کااظہار
حکومتی ذمہ داران کا پیپلزپارٹی کے رہنمائوں سے رابطے کرنے کا فیصلہ، پیپلزپارٹی کا بیڑہ کرپشن اور بیڈگورننس نے غرق کیا،بلاول بھٹو میں پیپلزپارٹی کو نیا جنم دینے کی صلاحیت نہیں ہے، تجزیہ نگاروں کی رائے
کراچی/دبئی( نیوز ڈیسک) حکومت اب تک متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے دیئے گئے استعفوں کے مسئلے سے نہیںنمٹ سکی جبکہ اب پیپلز پارٹی بھی استعفوں کا آپشن استعمال کرنے کی جانب بڑھ رہی ہے جس سے آنیوالے دنوںمیں حکومت کیلئے مشکلات میں اضافہ ہوگا‘ تفصیلات کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری کی زیر صدارت دبئی میں پیپلز پارٹی کا اہم اجلاس ہوا جس میں پارٹی کیخلاف کارروائیوں پر تشویش کااظہار اور قومی اسمبلی سے استعفوں پر غور کیا گیا جبکہ آصف علی زرداری نے سندھ کے صوبائی وزراء کی کارکردگی پر برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ نا اہل وزیروں کیلئے سندھ کابینہ میں کوئی جگہ نہیں ہے‘ جو کام کرے گا وہی وزیر رہے گا‘ تفصیلات کے مطابق پیپلز پارٹی سندھ کا اہم اجلاس دبئی میں ہوا جس میں وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ ‘فریال تالپور‘ قمر زمان کائرہ‘ فردوس عاشق اعوان‘ سید مراد علی شاہ سمیت دیگر رہنمائوں نے شرکت کی‘ اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی کیخلاف کارروائیوں پر تشویش کااظہار کیا گیا اور قومی اسمبلی سے پیپلز پارٹی کے استعفوں کے آپشن پر بھی غور کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق آصف علی زرداری اجلاس کے دوران پیپلز پارٹی سندھ کے وزراء پر برس پڑے‘آصف علی زرداری نے کہا کہ وہی وزیر رہے گا جو کام کریگا‘ نا اہل وزیروں کیلئے اب سندھ کابینہ میں کوئی جگہ نہیں ہے‘ آصف علی زرداری نے وزیراعلیٰ سندھ کو ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے اور ماہانہ بنیادوں پر وزراء کی کارکردگی رپورٹ مرتب کی جائے‘ سابق صدر نے تمام وزراء کو ہدایت کی کہ وہ ضلعی سطح پر کھلی کچہریاں لگائیں اور لوگوں کے مسائل حل کریں‘قبل ازیں وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے طلب کرنے پر پیر کو دبئی روانہ ہوئے‘ وزیراعلیٰ سندھ کے ہمراہ صوبائی وزیر خزانہ مراد علی شاہ اور صوبائی وزیر قانون ڈاکٹر سکندر میندھرو بھی موجود تھے‘ دریں اثناء پیپلز پارٹی شعبہ خواتین کی صدر اور آصف علی زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور اور فاروق ایچ نائیک بھی دبئی روانہ ہوئے‘ ذرائع کے مطابق دو روز قبل وزیراعلیٰ اور ایک اہم شخصیت کے درمیان ہونیوالی ملاقات میں سندھ کابینہ میں موجود بعض وزراء کے محکموں سے متعلق کرپشن کے ثبوت پیش کئے گئے تھے اور اس حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ کو ایک اہم پیغام پہنچایا گیا تھا۔دوسری جانب تجزیہ نگاروں نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کا بیڑہ کرپشن اور بیڈ گورننس سے غروب ہوا‘بلاول میںاتنی صلاحیت نہیں کہ پیپلز پارٹی کو نیا جنم دے سکیں‘ مفاہمت کی بجائے مزاحمت کی پالیسی بلاول کی نہیں آصف زرداری کی ہے‘ بلاول صرف اس پالیسی کے ساتھ نہیں چل رہے ہیں۔ مزاحمت کی سیاست پیپلز پارٹی کو جلا نہیں بخش سکتی‘ پیپلز پارٹی کو مفاہمت کی پالیسی سے بہت نقصان ہوا ہے اس لئے اب وہ (ن) لیگ کی زیادہ مخالفت کریگی‘ آصف علی زرداری نے مفاہمت کی نہیں مصلحت کی سیاست کی‘ بلاول بھٹو زرداری پیپلز پارٹی کی پرانی اسٹیبلشمنٹسے فاصلہ رکھے ہوئے ہیں‘ بلاول نے کرپشن میں پکڑے جانیوالے لوگوں کے حق میں کوئی بیان نہیںدیا‘ بلاول جب بھی سامنے آئے انہوں نے مزاحمت کی لائن لی‘ ایم کیو ایم اور حکومت سے اتحاد ختم ہونے کے بعد بلاول کیلئے مزاحمت کی سیاست کرنا آسان ہوجائیگا‘ پیپلز پارٹی کبھی جمہوری پارٹی نہیں رہی‘ پیپلز پارٹی کا ستیا ناس مفاہمت کی پالیسی سے نہیں ہوا پیپلز پارٹی کو ایک خاندان اور اس کے دوستوں اور ملازموں کی جماعت میں بدلنے سے اصل نقصان ہوا تجزیہ نگاروں نے کہا کہ پیپلز پارٹی سمجھ گئی ہے اسٹیبلشمنٹ اور مسلم لیگ (ن) کے ساتھ معاملات طے کرنے کیلئے پنجاب میں موجودگی بڑھانی ہوگی‘ پیپلز پارٹی کی سیاست پرانی ہوگئی‘ پی پی رہنما پاکستان کے آج کے مسائل پر بات نہیں کررہے‘ بلاول بھٹو اگر پیپلز پارٹی کونئی سمت دینا چاہتے ہیں تو انہیں نیا ووٹ بینک بنانا ہوگا‘ شہزاد چوہدری نے کہا کہ پیپلز پارٹی بہت زیادہ کنفیوژ ہے۔

Tags: