سندھ میں مدارس کے 5 لاکھ 17 ہزار طلبہ کا کوئی ریکارڈ نہیں

September 10, 2015 4:01 pm0 commentsViews: 33

صوبے میں 3 ہزار غیر رجسٹرڈ کام کررہے ہیں‘ سندھ حکومت رجسٹریشن کا مطلوبہ ہدف حاصل کرنے میں ناکام
علماء کے ساتھ مل کر مدارس کی رجسٹریشن فوری مکمل کی جائے‘ وزیر اعلیٰ سندھ کی اجلاس میں سیکریٹری داخلہ کو ہدایت
کراچی( اسٹاف رپورٹر) محکمہ داخلہ سندھ مدارس کی رجسٹریشن کا مطلوبہ ہدف حاصل کرنے میں ناکام ہوگیا۔ صوبے میں3 ہزار غیر رجسٹرڈ مدارس کام کر رہے ہیں ، 5 لاکھ 17 ہزار طلبہ کا حکومت کے پاس کوئی ریکارڈ نہیں، محکمہ داخلہ نے رجسٹریشن کا کام چھوڑ کر جیو ٹیکنگ شروع کردی۔ 3662 مدارس کی جیو ٹیکنگ مکمل ہو چکی ہے۔ وزیر اعلیٰ کی جانب سے مدارس کی رجسٹریشن مکمل نہ ہونے پر سیکریٹری داخلہ مختیار سومرو کی سرزنش ، علماء کے ساتھ مل کر رجسٹریشن جلد مکمل کرنے کی ہدایت کر دی۔ سید قائم علی شاہ کی زیر صدارت نیشنل ایکشن پلان کے فیصلوں پر عملدر آمد کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد کیا گیا۔ اجلاس کے شرکاء کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکریٹری داخلہ مختیار سومرو نے بتایا کہ صوبے میں9590 مدارس ہیں، 3 ہزار غیر رجسٹرڈ ہیں غیر رجسٹرڈ مدارس میں695,517 طلبہ داخل ہیں، کراچی کے2122 جبکہ حیدر آباد کے1548 مدارس کی جیو ٹیکنگ مکمل کر لی گئی۔ اس موقع پر آئی جی پولیس سندھ غلام حیدر جمالی نے بتایا کہ مختلف الزامات کے باعث167 مدارس کو سیل کیاگیا جبکہ کراچی، حیدر آباد اور بدین کے21 مدارس کی چھان بین کی گئی ہے۔ کچھ مدرسوں میں نفرت انگیز مواد کی بر آمدگی کے بعد ان کے خلاف مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ سیکریٹری داخلہ نے بتایا کہ صوبے میں 92646 افغان باشندے رجسٹرڈ ہیں۔ اور رواں سال 650 خاندان اور 3021 افراد کو واپس بھیجا گیا ہے۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی ذاتی دلچسپی کی وجہ سے ٹارگٹڈ آپریشن کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ پولیس اسٹیشنوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت ہے۔

Tags: