آصف زرداری کیخلاف سوئٹزر لینڈ سے ثبوت لایا تھا سابق ڈپٹی چیئرمین نیب

September 10, 2015 4:12 pm0 commentsViews: 17

ایس جی ایس ریفرنس میں یہ ریکارڈ نیب یا عدالت کے پاس ہونا چاہئے‘ حسن وسیم افضل کا احتساب عدالت میں بیان
ریفرنس کا اصل ریکارڈ کبھی موجود ہی نہیں تھا‘ آصف زرداری کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا‘ فاروق ایچ نائیک کا موقف
اسلام آباد( نیوز ڈیسک) احتساب بیورو کے سابق ڈپٹی چیئر مین حسن وسیم افضل نے احتساب عدالت میں بیان ریکارڈ کرایا ہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف ایس جی ایس ریفرنس سے متعلق اصل دستاویزات وہ خود سوئٹزر لینڈ سے لے کر آئے تھے۔ جو لاہور ہائی کورٹ میں جمع کرا دی تھی اب یہ ریکارڈ نیب یا عدالت کے پاس ہونا چاہئے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کے ایجنٹ نے معاہدے کئے تھے مگر اصل ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا جبکہ دوسری جانب زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ریفرنس کا اصل ریکارڈ کبھی موجود نہیں تھا۔ میرے موکل کے خلاف جھوٹے اور من گھڑت مقدمات قائم کرکے انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔ اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف ایس جی ایس اور کوٹیکنا ریفرنسز سے بریت کی درخواستوں کی سماعت کی۔ احتساب بیورو کے سابق ڈپٹی چیئر مین حسن وسیم افضل نے اپنے بیان میں کہا کہ غیر ملکی آف شور کمپنیوں کے ساتھ معاہدوں اور سوئس بینک اکائونٹس سے متعلق اصل معاہدوں اور سوئس بینک اکائونٹس کے متعلق اصل دستاویزات وہ خود سوئٹزر لینڈ سے لے کر آئے تھے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ وہ20 کرپشن ریفرنسز میں گواہ تھے مگر19 کیسز میں گواہی ترک کرکے صرف ایس جی ایس ریفرنس میں بیان ریکارڈ کروایا گیا جس پر اکتوبر1998ء سے فروری 1999ء تک 4 ماہ عدالت میں جرح کا سامنا کیا۔ نیب کے سابق ڈپٹی چیئر مین کا بیان اور اس پر جرح مکمل ہونے پر بحث کیلئے سماعت22 ستمبر تک ملتوی کر دی گئی۔

Tags: