جعلی پنشن بلز کے ذریعے کروڑوں روپے ہڑپ

September 10, 2015 4:12 pm0 commentsViews: 14

اے جی آفس‘ محکمہ خزانہ‘ نیشنل بینک سمیت دیگر بینکوں کے اہلکاروں پر مشتمل گروہ کا اسکینڈل سامنے آگیا
سندھ کے 10 اضلاع میں جعلسازی کے ذریعے اصل پنشنر کو 10 فیصدادائیگیوں کے بعد 20 کروڑ روپے دوسرے اکائونٹس میں منتقل
کراچی( اسٹاف رپورٹر) اکائونٹنٹ جنرل سندھ اور محکمہ خزانہ کے افسران کی ملکی بھگت سے صوبہ سندھ کے دس اضلاع میں جعلی پنشن بلز کے ذریعے کروڑوں روپے ہڑپ کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے نیشنل بینک اور دیگر بینک اہلکاروں کی معاونت سے اصل پنشنر ز کو دس فیصد ادائیگی پر ان کے اکائونٹس میںمنتقل کی گئی رقم کی ابتدائی مالیت بیس کروڑ بتائی جاتی ہے۔ صوبائی فنڈز کی بے نامی اکائونٹس میں منتقلی کے ذریعے ایک ارب کے لگ بھگ رقم کی خورد برد پر مبنی اسکینڈل کے بعد اے جی سندھ، محکمہ خزانہ اور نیشنل بینک سمیت دیگر بینکوں کے اہلکاروں پر مشتمل گروپ کا ایک اور اسکینڈل سامنے آیا ہے۔ نئے اسکینڈل میں مذکورہ مماثلت کے علاوہ اصل پنشنرز کی شمولیت کا بھی انکشاف کیا ہے، اے جی سندھ کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق صرف دو ہزار بارہ اور تیرہ میں ہڑپ کی گئی رقم کی مالیت بیس کروڑ سے زائد بتائی جاتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ہر بل کا پچاس کوفیصد حصہ ڈسٹرکٹ اکائونٹس افسر، اکائونٹنٹ اور آڈیٹرز کے مابین تقسیم ہوتا رہا ہے، اور اس ضمن میں جاری کردہ فنڈز کی ماہانہ بیلنس شیٹ کو درکار مالیت کے مطابق رکھنے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ تاہم رقم کے حصول کے بعد بلز غائب کئے جاتے رہے ہیں۔

Tags: