تاجروں کی ہڑتال کے باوجود وزارت خزانہ اپنے موقف پر اڑ گئی

September 10, 2015 4:17 pm0 commentsViews: 20

تاجروں کو ہر صورت ٹیکس نیٹ کا حصہ بننا ہوگا، ہڑتال پر تاجروں میں اختلافات
کراچی کی کئی مارکیٹیں کھلی رہیں، حکومت کے بینک ڈپازٹس میں300 کروڑ روپے کی کمی
کراچی( کامرس رپورٹر) آل پاکستان انجمن تاجران کی اپیل پر تاجروں کی جانب سے موثر شٹر ڈائون ہڑتال کے باوجود وزارت خزانہ نان فائلرز سے0.3 فیصد ٹرانزکشن فیس کی وصولی کے موقف پر قائم۔ وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق ٹیکس نیٹ میں وسعت کیلئے تاجروں کو ہر صورت میں اس کا حصہ بننا ہوگا۔ جو تاجر 0.3 بینک ٹرانزکشن فیس کے خلاف ہیں وہ ٹیکس نیٹ میں شامل ہو کر ہی اس سے بچ سکتے ہیں۔ ادھر فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ تاجروں اور وزارت خزانہ کے درمیان جولائی میں معاہدہ طے پا چکا ہے جسے کے تحت3 ماہ کیلئے ود ہولڈنگ ٹیکس میں50 فیصد کمی کی گئی تا کہ چھوٹے تاجر اس عرصے میں انکم ٹیکس ریٹرن فائل کر سکیں۔ اکتوبر کے آخر میں انکم ٹیکس ریٹرن فائلرز سے بینک ٹرانزکشن فیس کی وصولی موقف کر دی جائے گی۔ ادھر کراچی میں تاجر گزشتہ اختلافی ہڑتالوں کے باعث مزید اختلافات کا شکار ہیں۔ واضح رہے کہ کل کی ہڑتال کے دوران بھی ایشیا کی سب سے بڑی مارکیٹ کھلی رہی اس کے علاوہ کراچی کے مضافاتی علاقوں کی مارکیٹیں بھی ہڑتال سے لا تعلق رہی۔ بینک ٹرانزکشن کے حکومتی اور تاجر تنازعے کے باعث بینکوں کے ڈپازٹ میں اب تک300 کروڑ روپے کی کمی واقع ہو چکی ہے۔ آل پاکستان انجمن تاجران کی جانب سے آئندہ ماہ ہر حال لانگ مارچ کے اعلان پر تاجروں نے ملے جلے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حقیقی لیڈر شپ کے بغیر تاجر کبھی اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔

Tags: