غیر قانونی بھرتیاں سندھ میں 25 ہزار ملازمین کو برطرف کرنے کی تیاریاں

September 12, 2015 1:19 pm0 commentsViews: 35

پیپلز پارٹی اور متحدہ کے 7 سالہ مخلوط دور حکومت میں بلدیاتی اداروں میں 6 ہزار کے بجائے 30 ہزار افراد بھرتی کئے گئے
کارروائی کی زد میں سندھ کی حکمراں جماعت کے ایماء پر بھرتی کردہ خلاف ضابطہ ملازمین بھی آئیں گے‘ ملازمین کی اکثریت سیاسی جماعتوں کی کارکن ہے
کراچی ( نیوز ڈیسک) پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے 7 سالہ مخلوط دور حکومت کے دوران سندھ کے بلدیاتی اداروں میں جس طرح اندھا دھند بھرتیاں کی گئیں۔ اور6 ہزار ملازمتوں کے بجائے30 ہزار لوگوں کو بھرتی کر لیا گیا اب حکومت سندھ خلاف ضابطہ اور غیر قانونی طریقے سے بھرتی کئے جانے والے تقریباً 25 ہزار ملازمین کو جن میں گھوسٹ ملازمین بھی شامل ہیں عنقریب فارغ کر نے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس کارروائی کی زد میں ایسے ملازمین بھی آرہے ہیں جو سندھ کی حکمران جماعت کی اپنی ایماء پر بھرتی کئے گئے تھے لیکن اب حالات کے جبر نے پیپلز پارٹی کو اس بات پر مجبور کر دیا ہے کہ وہ اپنے اور بیگانے کی تمیز کئے بغیر سندھ خصوصاً کراچی کے بلدیاتی اداروں میں بھرتی کئے جانے والے تمام ایسے لوگوں کو فارغ کر دیے جنہیں خلاف ضابطہ اور غیر قانونی طور پر ملازمتیں فراہم کی گئیں۔ با خبر ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کے سد باب کیلئے وفاقی سطح پر جو قومی ایکشن پلان تیار کیا گیا ہے اس کی روشنی میں تحقیقاتی اداروں نے ملک گیر سطح پر نہ صرف اپنی تمام تر توجہ دہشت گردی کے سد باب پر مرکوز کی ہوئی ہے بلکہ ان کا کہنا ہے کہ دہشت گردی اور کرپشن کا آپریش میں اتنا تعلق ہے کہ کسی ایک کو بھی نظر انداز کرکے کامیابی کا حصول ممکن نہیں۔ ذرائع کہنا ہے کہ کراچی آپریشن کے دوران جب تحقیقاتی اداروں نے کراچی کی بد امنی کے پس پر دہ محرکات کا بغور جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے سات سالہ مخلوط دور حکومت میں سندھ کے بلدیاتی اداروں خصوصاً کراچی میں ان اداروں کو بڑے منظم طریقے سے تختہ مشق بنایا گیا اور ان اداروں میں6 ہزار ملازمین کی جگہ لگ بھگ 30ہزار لوگوں کو بھرتی کر لیا گیا جن میں اکثریت سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی تھی جو بلدیاتی اداروں سے تنخواہ تو ہر ماہ بڑی باقاعدگی سے وصول کرتے رہے لیکن ڈیوٹی پر کبھی نظر نہیں آئے۔

Tags: