اسمگلنگ کے مال کی خریداری میں تاجروں کی دلچسپی بڑھ گئی

September 12, 2015 2:58 pm0 commentsViews: 61

چائے کی پتی، خشک دودھ، سیمنٹ، ادویات، ٹائر سمیت دیگر کی اسمگلنگ جاری ہے
ٹیکس نظام میں خامیوں کے باعث حکومت کو اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے، ایاز موتی والا
کراچی( کامرس رپورٹر)ملک میں ٹیکس نظام میں خامیوں کے باعث تاجر درآمد سے زیادہ اسمگلنگ کے مال کی خریداری میں دلچسپی رکھتے ہیں جس کے باعث ملک کو سالانہ4 ارب روپے کے محصولات کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے‘ اس نقصان کو پورا کرنے کیلئے حکومت ٹیکسوں میں اضافے کی روش پر عمل پیرا ہے‘ یہ بات کراچی تاجر ایسوسی ایشن کے چیئرمین ایاز موتی والا نے گزشتہ روز نمائندہ آغاز سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے بتایا کہ کاسمیٹکس ‘آرٹیفشل جیولری‘ پلاسٹک گڈز‘ ادویات‘ چائے کی پتی‘ خشک دودھ‘ سیمنٹ‘ ایرانی پیٹرول اور ڈیزل سمیت دیگر اشیاء کی ملک میں اسمگلنگ کے باعث درآمدی اہداف کے اعشاریئے بھی نیچے کی طرف جارہے ہیں‘ انہوں نے کہا کہ ملک میں یورپی ممالک سے براستہ دبئی سالانہ10 روپے کے ٹائرز اسمگل کئے جارہے ہیں‘ جو ٹائر مارکیٹوں میں ملکی برانڈز کے مقابلے میں نسبتاً سستے فروخت ہورہے ہیں جس سے ملکی ٹائر انڈسٹری کو بھی سخت نقصان ہورہا ہے جبکہ چائے کی پتی اور خشک دودھ کی اسمگلنگ بھی سالانہ20 ارب روپے سے زائد ہے‘ پاکستانی معیشت کو سب سے زیادہ نقصان ایرانی پیٹرولیم مصنوعات کی بڑے پیمانے پر اسمگلنگ سے ہورہا ہے۔

Tags: