ٹیکس چوری کیلئے رہائشی علاقوں میں کارخانے لگائے جانے لگے عوام کو مشکلات

September 15, 2015 1:50 pm0 commentsViews: 46

محمود آباد‘ کورنگی کراسنگ‘ ڈیفنس ‘ اختر کالونی اور دیگر علاقوں میں آئس کریم‘ گارمنٹس اور دیگر کارخانے بنائے گئے ہیں
کار خانوں سے سکون برباد ہوگیا‘ مال لانے اور لے جانے والی گاڑیوں کی آمد و رفت سے گلیاں جام ہوجاتی ہیں‘ شہریوں کا موقف
کراچی( نیوز ڈیسک) شہر کے چھوٹے بڑے صنعت کار ٹیکس چوری اور بجلی چوری کرنے کیلئے رہائشی علاقوں کا رخ کرکے حکومت کو ماہانہ کروڑوں روپے کا نقصان پہنچانے لگے۔ جس سے رہائشی علاقوں میں رہائش پذیر شہری اذیت میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ ان چھوٹی بڑی فیکٹریوں اور کارخانوں میں گارمنٹس، لیدر، جیکٹس، کاسمیٹکس اور کپڑوں کی رنگائی، دھلائی سمیت بہت سے کام ہوتے ہیں۔ کورنگی اور نارتھ کراچی کی بہت سی فیکٹریوں کے شہر کے مختلف رہائشی علاقوں میں لگائے گئے یونٹوں میں بھاری بھر کم کام کئے جا رہے ہیں۔ جن کیلئے بوائلر بھی لگائے ہوئے ہیں جن کی رہائشی عمارتوں میں تنصیب جرم ہے اور بہت بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہیں،۔ چھوٹے بڑے صنعتکار رہائشی علاقوں میں اپنے سیٹ اپ اس لئے لگا رہے ہیں کہ انکم ٹیکس بچائیں۔ بجلی کا بل کم آئے۔ رہائشی فلیٹوں اور گودام وغیرہ کے کرائے بھی کم ہیں،۔ ان فیکٹریوں اور کارخانوں میں گارمنٹس کے علاوہ آئس کریم، چھالیہ اور مختلف اقسام کے تیل بنانے سمیت بڑے بڑے بوائلر، تھیلیاں بنانے کی مشینیں، اچار، مختلف اقسام کے مضر صحت جوس اور غیر معیاری منرل واٹر کی بوتلوں کے کارخانے اور فیکٹریاں لگی ہوئی ہیں۔ جو انکم ٹیکس حکام اور کے الیکٹرک والوں کی عقابی نظروں سے اوجھل ہیں یا ان اداروں کو ماہانہ خرچہ پانی پہنچ رہا ہے جن علاقوں میں یہ یونٹس لگے ہیں ان میںمحمود آباد، کورنگی کراسنگ، قیوم آباد ، ڈیفنس، اختر کالونی، صدر، ناظم آباد، نمائش، پی آئی بی کالونی، گلستان جوہر وغیرہ شامل ہیں۔ رہائشی علاقوں میں فیکٹریاں لگانے میں خرچہ کم اور فائدہ زیادہ ہے۔ جہاں فیکٹریوں اور کارخانوں کا کسی کو پتہ نہیں چلتا، جبکہ رہائشی علاقوں میں فیکٹریاں، کارخانے لگانا قانون کی خلاف ورزی ہے، شہریوں کا کہنا تھا کہ ان کارخانوں میں چلنے والی مشینوں سے سکون برباد ہوگیا ہے۔ مال لانے لے جانے کیلئے گاڑیوں کی آمد و رفت سے پوری گلیاں جام ہوجاتی ہیں۔

Tags: