وفاق بنگلہ دیش سے بہاریوں کو پاکستان لانے پر تیار سندھ میں بسانے کی شرط

September 16, 2015 3:37 pm0 commentsViews: 26

پاکستان کی حکومت بنگلہ دیش کے کیمپوں میں مقیم غیربنگالیوں کو مالی امداد بھیجتی رہتی ہے، انسانی ہمدردی کے تحت ان لوگوں کو پاکستان لا کر بسانے کیلئے تیار ہیں، مشیر خارجہ
ماضی میں سندھ حکومت نے بہاریوں کو کراچی میں نہیں بسایا جس کے باعث پنجاب میں ان کے لیے گھر بنائے گئے، پاکستان نے 35سال تک 40 لاکھ افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کی ہے، بنگلہ دیش کے کیمپوں میں موجود افراد کو بھی لانے کے لیے تیارہیں، سرتاج عزیز کا سینیٹ میں بیان
میڈیکل مارکیٹ میں 70فیصد حصہ تجارتی نشان استعمال نہ کرنے والے اورمقامی طور پر تیار ہونے والی ادویات کا ہے، ملک میں ادویات کی رجسٹریشن کا جامع طریقہ کار وضع کیاجارہاہے، معیاری ادویات کی فراہمی سے مہلک امراض پر قابو پایاجاسکتا ہے، سائرہ افضل تارڈ
اسلام آباد( نیوز ایجنسیاں/ نیوز ڈیسک) وفاقی حکومت نے بنگلہ دیش میں کسمپرسی کی زندگی گزارنے والے والے پاکستانیوں کی وطن واپسی کیلئے مشروط طور پر آمادگی ظاہر کردی‘ مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ اگر سندھ حکومت بنگلہ دیش میں مقیم بہاریوں کو سندھ میں بسانے کی ذمہ داری لے تو وفاقی حکومت ان لوگوں کو پاکستان لانے کا انتظام کرنے کیلئے تیار ہے‘ مشیر خارجہ نے گزشتہ روز سینیٹ میں کہا ہے کہ حکومت پاکستان نے بھارتی وزیراعظم کے بنگلہ دیش میں بیان کا سخت نوٹس لیا ہے‘ سندھ حکومت قبول کرے تو بنگلہ دیش میں کیمپوں میں مقیم بہاریوں کو ملک میں لانے کیلئے تیار ہیں‘ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ان لوگوں کو واپس لایا جاسکتا ہے لیکن اگر سندھ انہیں اپنے صوبے میں بسانے پر تیار ہوجائے تو وہ وفاقی حکومت کو بہاریوں کو لانے کیلئے اقدامات کرسکتے ہیں۔ منگل کو سینیٹ میں وقفہ سوالات کے درمیان سینیٹر جاوید عباسی‘ فرحت اللہ بابر‘ عثمان کاکڑ‘ سینیٹر کامل علی آغا کے سوالات کے جواب میں مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے ایوان کو بتایا کہ بنگلہ دیش کے کیمپوں میں پاکستانی پاسپورٹ ہولڈرز موجود نہیں تاہم بنگلہ دیش کے بہت سے بہاری کیمپوں میں غیر بنگالی موجود ہیں۔ بنگلہ دیش میں زیادہ تر کیمپوں میں تقریباً 4لاکھ غیر بنگالی ہونے کی اطلاعات تھیں۔ 1974-1982 کے دوران تقریباً ایک لاکھ 70 ہزار اور 1993 ء میں327 غیر بنگالیوں کی پاکستان میں واپسی عمل میں آئی‘ بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق 1971 ء کے بعد کیمپوں میں پیدا ہونیوالے افراد کوووٹ کا حق مل گیا ہے جنہوں نے 2014 ء کے عام انتخابات میں بڑی تعداد میں ووٹ دیئے‘ بہاریوں کے معاملے پر پاکستان کو تشویش رہی ہے حکومت پاکستان وقتافوقتاً ان کو مالی امداد فراہم کرتی رہتی ہے‘ انہوں نے کہا کہ عارضی طور پر نقل مکانی کرنیوالے افراد کی بحالی کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں‘ پاکستان نے35 سال 40لاکھ افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کی ہے اور انہیں ہر ممکن سہولیات فراہم کیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت ماضی میں بہاریوں کو کراچی میں آباد کرنے کیلئے تیار نہیں تھی اس لئے پنجاب میں ان کیلئے گھر بھی بنائے گئے جنہیں بعد میں وہ چھوڑ کر چلے گئے‘ اب بھی سندھ حکومت آمادہ ہو تو ان بہاریوں کو پاکستان لانے کیلئے تیار ہیں‘ دوسری جانب سینیٹ کو بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں ایسی ادویات موجود ہیں جن کا کوئی رجسٹرڈ تجارتی نشان نہیں ہے‘ سینیٹر عائشہ رضا فاروق کے سوال کے جواب میں وزیر برائے نیشنل ہیلتھ سروسز ریگولیشنز اینڈ کو آرڈی نیشن سائرہ افضل تارڑ نے ایوان کو بتایا کہ ملک میں لیبارٹریوں کے نظام کو بہتر بنایا جارہا ہے اور ادویات کی رجسٹریشن کے لئے ایک جامع طریقہ کار وضح کیا گیا ہے‘ پاکستان میں ادویات کا تجارتی استعمال نہ کرنیوالی صنعت بھی تیزی سے فروغ پارہی ہے‘ اس وقت مارکیٹ میں70 فیصد حصہ تجارتی نشان استعمال نہ کرنیوالے مقامی طور پر تیار کی جانیوالی ادویات کا ہے۔ معیاری ادویات کی فراہمی اور استعمال سے ہیپاٹائٹس اور دیگر امراض پر قابو پایا جاسکتا ہے اور حکومت اس سلسلے مین اپنی ذمہ داریوں سے پوری طرح آگاہ ہے۔

Tags: