بلدیاتی انتخابات میں مقناطیسی سیاہی استعمال نہیں کی جائیگی سیکریٹری الیکشن کمیشن

September 16, 2015 3:52 pm0 commentsViews: 24

ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف آئین کے آرٹیکل 204 کے مطابق کارروائی کی جائے گی
نادرا کا کہنا ہے کہ 7 کروڑ انگوٹھوں کیلئے بائیو میٹرک سسٹم مؤثر نہیں ہے‘ بابر یعقوب فتح محمد کی پریس کانفرنس
کراچی( اسٹاف رپورٹر) سیکریٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان بابر یعقوب فتح محمد نے کہا ہے کہ نادرا کا کہنا ہے کہ عام انتخابات میں7 کروڑ سے زائد انگوٹھوں کیلئے بائیو میٹرک سسٹم کیلئے ہمارا سسٹم موثر نہیں ہے۔ بلدیاتی انتخابات میں مقناطیسی سیاہی استعمال نہیں ہوگی۔ پی سی ایس آر آئی کی سیاہی استعمال کی جائے گی۔ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن بلدیاتی انتخابات میں منصوبہ بندی، رابطہ تربیت اور مانیٹرنگ کی بنیاد پر اپنا ویژن بنا رہا ہے۔ تربیت اور مانیٹرنگ کو انتہائی اہمیت دی جا رہی ہے۔ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف آئین کے آرٹیکل 204 کے مطابق کارروائی ہوگی۔ سندھ حکومت کی جانب سے کراچی کیلئے115 ارب روپے کے پیکج کی شکایت سامنے آئی تو الیکشن کمیشن اس کا جائزہ لے گا۔ جو ریٹرننگ افسران ذمہ داریاں قانون کے مطابق ادا نہیں کریں گے ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ریٹرننگ افسر نے طلب کیا تو سیکورٹی کیلئے رینجرز فراہم کر دی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو صوبائی الیکشن کمیشن آف سندھ میں اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صوبائی الیکشن کمشنر آف سندھ تنویر ذکی، ڈائریکٹر جنرل ایڈ من اور مانیٹرنگ کے سربراہ بریگیڈیئر ریٹائرڈ عباس علی خان اور جوائنٹ سیکریٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان عطاء الرحمن بھی موجود تھے۔ قبل ازیں اجلاس میں سندھ میں پہلے اور دوسرے مرحلے میں23 اضلاع کے بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا اور ریجنل؛ الیکشن کمشنر سے مختلف آراء اور تجاویز طلب کی گئیں۔ سیکریٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب نے کہا کہ اب تک بلدیاتی انتخابات کا کام تسلی بخش ہے۔ پہلے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات میں میٹریل فراہم کر دیاگیا ہے جبکہ بیلٹ پیپرز کا کام بھی شیڈول کے مطابق ہوگا۔ اس وقت ہمارے سامنے سب سے زیادہ معاملہ عملے کی تربیت نہ ہونے کی وجہ سے کئی سوالات پیدا ہوئے۔ جوڈیشل کمیشن نے بھی منظم دھاندلی کے حوالے سے چند کی نشاندہی بھی کی تھی جس میں بہتر منصوبہ بندی نہ ہونا۔ رابطے کا فقدان، تربیت نہ ہونا اور کام کی مانیٹرنگ نہ کرنا شامل ہے۔ الیکشن کمیشن نے اس رپورٹ کی بنیاد پر ان باتوں سے اپنا ویژن بنایا ہے کہ الیکشن کمیشن کو مانیٹر کیا جائے گا۔ سیکریٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ شکایات کیلئے ہم انٹر نیٹ میں ویب پیج بنا رہے ہیں۔ ہر عام و خاص شکایات الیکشن کمیشن تک پہنچا سکتے ہیں اور کمیشن بر وقت ان پر کارروائی کریگا۔

Tags: