کے ایم سی ڈی ایم سیز 80 ہزار ملازمین اور پنشنروں کو عید سے قبل ادائیگیوں کا حکم

September 16, 2015 4:04 pm0 commentsViews: 24

اسٹیٹ بینک کے نمائندے اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو ہائی کورٹ کی ہدایت پر سفارشات جلد از جلد مکمل کرانے کا حکم دیا گیا
ڈی ایم سائوتھ کے علاوہ تمام ڈی ایم سیز کے مالی معاملات ٹھیک ہیں(انسپکشن ٹیم) اسٹیٹ بینک ہر ماہ 17 تاریخ کو فنڈ ریلیزکرتا ہے
کراچی(اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس منیب اختر اور جسٹس عزیز الرحمن پر مشتمل ڈویژن بینچ نے کے ایم سی وڈی ایم سیز کے80ہزار ملازمین وپنشنرز کو عید سے قبل 21ستمبر تک تنخواہ پنشن اداکرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک کے نمائندے اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل آف پاکستان کو ہائی کورٹ کی ہدایت قائم کردہ کمیٹی کے 21ستمبر کوشام4بجے کمشنر ہائوس میں ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں شریک ہوکر اپنی سفارشات جلدازجلد مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے ْسجن یونین(سی بی اے) کے ایم سی کے مرکزی صدر سیدذوالفقارشاہ ،جسٹس ہیلپ لائن کے صدر ندیم شیخ ایڈوکیٹ ،ریٹائر پنشنرز کے نمائندے اسماعیل شہیدی کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ میں کے ایم سی وڈی ایم سیز کے پنشنرز وملازمین کو تنخواہیں پنشن کی عدم ادائیگی کے خلاف دائر آئینی پٹیشن کی سماعت کے دوران کمشنر کراچی کی جانب سے عدالتی احکامات پر کمشنر ہائوس میں ہونے والی کمیٹی کے اعلیٰ سطحی اجلاس کی رپورٹ پیش کی گئی جبکہ ہائی کورٹ کے ممبر انسپکشن ٹیم عبدا ﷲچنہ نے بھی اجلاس کے حوالے سے اپنی علیٰحدہ رپورٹ پیش کی اور عدالت کو بتایا گیا کہ ڈی ایم سی سائوتھ کے علاوہ تمام ڈی ایم سیز کے مالی معاملات ٹھیک ہیں ۔کے ایم سی وڈی ایم سیز میں گھوسٹ ملازمین ہیں اور مالی بے ضابطگیاں بھی ہیں جن پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔ عدالت نے حکم دیا کہ کے ایم سی وڈی ایم سیز کے تمام 80ہزار ملازمین وپنشنرزکو عید سے قبل21ستمبر تک تنخواہیں پنشن اداکی جائے ۔ندیم شیخ ایڈوکیٹ نے عدالت کی توجہ دو ماہ کی تنخواہ اور7ماہ سے9ماہ کی پنشن کی عدم ادائیگی کی جانب مبذول کرواتے ہوئے درخواست کی کہ عید سے قبل تنخواہ پنشن کی ادائیگی کی جائے ۔جس پر عدالت نے وہاں موجود ایڈیشنل سیکریٹری کوہدایت دی کہ وہ عید سے قبل تنخواہ پنشن کی ادائیگی کو یقینی بنائیں اور حکم دیاکہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں شریک تمام فریقین اپنی اپنی تجاویز جلداذجلد مکمل کرکے اجلاس میں پیش کریں تاکہ تنخواہ پنشن کے معاملات کو مستقل بنیادوں پرحل کیا جاسکے ۔انہوں نے اسٹیٹ بینک کو ہدایت دی کہ بلدیاتی اداروں کی وہ تمام ریلیز رپورٹ کی شکل میں آئندہ سماعت کے موقع پر22ستمبر کو11بجے عدالت میں پیش کریں۔

Tags: