غیر قانونی سمز فروخت کرنے پر 2 سال قید کی تجویز

September 18, 2015 4:39 pm0 commentsViews: 15

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن نے انسداد الیکٹرانکس کرائمز بل 2015 کی منظوری دیدی
سائبر کرائم کی منظوری دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن کی کامیابی میں سنگ میل ثابت ہوگی‘ چیئرمین محمد صفدر
اسلام آباد( نیوز ڈیسک) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن اینڈ ٹیلی کمیونی کیشن نے انسداد الیکٹرنکس کرائمز بل2015 ء کی اکثریت سے منظوری دیدی کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کیپٹن(ر) محمد صفدر کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں میجر (ر) طاہر اقبال نے اجلاس میں انسداد الیکٹرانک کرائمز بل2015 ء کے حوالے سے مجوزہ ترامیم کے ساتھ رپورٹ پیش کی۔ کمیٹی نے کئی مجوزہ ترامیم شامل کرتے ہوئے انسداد الیکٹرانکس کرائمز بل2015 ء کی اکثریت رائے سے منظوری دی۔ کمیٹی نے کہا کہ سائبر کرائم کے شعبے میں جرائم کی روک تھام اورنیشنل سیکورٹی میں تعاون کیلئے قانون سازی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ آن لائن کے مطابق نئے بل کے تحت غیر قانونی سمیں فروخت کرنیو الوں کو 2 سال قید کی سزا تجویز کی گئی ہے اور اس مقصدکیلئے بل کی سیکشن 22 میں ترمیم کی گئی ہیں۔ سیکشن 34‘35 میں ترمیم تجویز کی گئی ہے جس کے تحت آن لائن معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والوں کیلئے سخت سزا تجویز کی گئی ہے۔ نئے بل کے تحت10 سال سے 13سال تک کے بچے کو سائبر کرائم کی سزا سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ نئے بل کے تحت ملک سے گرے ٹریفکنگ کو ختم کرنے میں مدد ملے گی‘ بل کے تحت سائبر کرائم کے مقدمات سننے والے جج کو کمپیوٹر کاماہر ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ چیئرمین نے کہا کہ سائبر بل کو قومی امنگوں کے مطابق بنایا گیا ہے‘ ملک میں سائبر کرائم بل کی منظوری دہشت گردوں کیخلاف جاری آپریشن ضرب عضب کی کامیابی میں سنگ میل ثابت ہوگی۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے شق 34 کی مخالفت کی۔ کمیٹی رکن طاہر اقبال نے بتایا کہ ملک میں دہشت گردی کیخلاف جو آپریشن چل رہا ہے اس سے بل کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ یہ بل قصور جیسے واقعات کو روکنے میں مدد گار ثابت ہوگا‘ شازیہ مری نے کہا کہ اگر قیدکی سزا دینی ہے تو 3 ماہ کی دی جائے‘ یہ اتنا بڑا جرم نہیں کہ 2 سال تک قید ہو۔

Tags: