ایڈمنسٹریٹر ضلع وسطی کی مبینہ لوٹ مار خاتون ایڈمنسٹریٹر بند کمرے میں ٹھیکیداروں کو ٹھیکے دینے لگیں

September 18, 2015 4:51 pm0 commentsViews: 31

ڈی ایم سی کے ٹھیکے قواعد و ضوابط کے خلاف دیئے جارہے ہیں‘ ٹھیکے آئین کے مطابق دیئے جاتے تو خزانے کو کروڑوں کی بچت ہوسکتی تھی
عائشہ ابڑو کی دفتر سے مسلسل غیر حاضری کے باعث شہر کا اہم ترین ڈسٹرکٹ بدانتظامی کا شکار صفائی کی صورتحال بھی ابتر ہے
کراچی(رپورٹ/فرید عالم)ایڈ منسٹریٹر ضلع وسطی عائشہ ابڑو کی مبینہ لوٹ مار فرائض سے عدم دلچسپی اور دفتر سے مسلسل غیر حاضری کے باعث شہر کا اہم ترین ڈسٹرکٹ سنگین مالی وانتظامی بحران کا شکار ہوکر رہ گیا،فیول کی مد میں ماہانہ لاکھوں روپے کا ڈیزل استعمال ہونے کے باوجودضلع وسطی میں صفائی ستھرائی کی بدترین صورتحال،وبائی امراض پھوٹنے کا شدید خطرہ ،وزیر بلدیات کے احکامات بھی پیروں تلے روند دیئے گئے، ضلع وسطی میں تعینات خاتون ایڈ منسٹریٹر عائشہ ابڑو اپنے گھر سے بیٹھ کر ڈی ایم سی چلا رہی ہیں،ہفتوں دفتر سے غیر حاضر رہنے کے باعث بلدیاتی امور ٹھپ پڑے ہوئے ہیں،ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ضلع وسطی میں ماہانہ لاکھوں روپے ڈیزل کی مد میں وصول تو کئے جارہے ہیں تاہم ڈسٹرکٹ میں صفائی ستھرائی کی انتہائی ابتر صورتحال موجود ہے ،کچرا کنڈیاں کچروں سے بھر جانے کے بعد کھیل کود کے گرائونڈز اور پارکس بھی کچرا کنڈیوں میں تبدیل ہوکر رہ گئے ہیں جبکہ ڈی ایم سی کی اندرونی گلیوں میں گندگی وغلا ظت کے ڈھیر جمع ہونے کے باعث وبائی امراض پھوٹنے کا خدشہ ہے ۔واضح رہے کہ گذشتہ دنوں صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے عید الاضحی سے قبل تمام ڈی ایم سیز کو فوری طور پر صفائی ستھرائی کی صورتحال کو بہتر کرنے کا حکم دیتے ہوئے ڈی ایم سیز کے اچانک دورے کرنے کی وارننگ دی تھی تاہم اس کے باوجودضلع وسطی میں وزیر بلدیات کے احکامات کو بھی ردی کی نذر کردیا گیا ہے اور تا حال ڈی ایم سی میں صفائی ستھرائی کے اقدامات شروع نہیں کئے جاسکے ہیں،علاوہ ازیں ذرائع نے مزید انکشاف کیا ہے کہ ایڈ منسٹریٹر ضلع وسطی عائشہ ابڑو نے عیدالاضحی کے ضروری کاموں کی آڑ میں مبینہ طور پر61ترقیاتی کاموں کے ٹھیکے جن کی لاگت کروڑوں روپے ہے من پسند ٹھیکیداروں میں ریوڑیوں کی طرح تقسیم کردیئے ہیں،ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ مذکورہ ٹھیکوں میں سیپرا رولز کی دھجیاں اڑاتے ہوئے مبینہ طور پر بند کمرے میں ٹھیکیداروں کو ٹھیکے دیکر نواز دیا گیا ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ ٹھیکوں میں پارکس کے کام بھی شامل ہیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ ٹھیکے قوانین کے مطابق جاتے تو حکومتی خزانے کو کروڑوں روپے کی بچت ہوسکتی تھی۔ٹھیکیداروں کا کہنا ہے کہ ضلع وسطی پر پہلے ہی 60 کروڑ روپے واجبات ہیں اس کے باوجودمزید ٹھیکے طلب کئے جانے پرتحقیقاتی اداروں فوری طور پر نوٹس لیں،تاہم ڈی ایم سی کے میونسپل کمشنر مذکورہ ٹھیکوں کے حوالے سے کسی قسم کا موقف دینے سے قاصر ہیں،عید الاضحی کے غیر ضروری کاموں کی آڑ میں من پسند ٹھیکیداروں کو ٹھیکے دے رہے ہیں۔ڈی ایم سی کے ایماندار افسران نے ضلع وسطی کو مالی وانتظامی بحران میں مبتلا کئے جانے کی فوری تحقیقات جبکہ شہریوں نے ایڈ منسٹریٹر کی تبدیلی کا مطالبہ کردیا ہے۔

Tags: