سندھ پولیس کے 3400 افسران و اہلکار جرائم میں ملوث ہیں رپورٹ میں انکشاف

September 22, 2015 1:03 pm0 commentsViews: 24

سپریم کورٹ نے جرائم میں ملوث پولیس افسران و اہلکاروں سے متعلق سندھ پولیس کی رپورٹ مسترد کردی‘ دوبارہ جانچ پڑتال کا حکم
عدالتی حکم پر اے ڈی خواجہ، ثناء اللہ عباسی اور سلطان خواجہ پر مشتمل نئی کمیٹی قائم‘ 1400 اہلکاروں کیخلاف کارروائی کی گئی‘ ایڈیشنل آئی جی
کراچی( مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے جرائم میں ملوث پولیس افسران و اہلکاروں سے متعلق سندھ پولیس کی رپورٹ پر عدم اطمینان کااظہار کرتے ہوئے دوبارہ جانچ پڑتال کا حکم دیا ہے۔ سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں پولیس کے جرائم میں ملوث افسران و اہلکاروں سے متعلق کیس کی سماعت جسٹس امیر مسلم ہانی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کی‘ سندھ پولیس کی جانب سے عدالت میں تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی‘ پولیس رپورٹ کے مطابق 3400 سے زائد پولیس افسران و اہلکار جرائم میں ملوث ہیں۔عدالت نے پولیس رپورٹ پر عدم اطمینان کااظہار کرتے ہوئے حکم دیا کہ جانچ پڑتال کیلئے نئی کمیٹی قائم کی جائے جس پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ عبدالفتح ملک نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی حکم پر اے ڈی خواجہ ثناء اللہ عباسی اور سلطان خواجہ پر مشتمل جانچ کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔ایڈیشنل آئی جی کراچی مشتاق مہر پیش ہوئے اور بتایا کہ جرائم میں ملوث 1400 پولیس افسران و اہلکاروں کیخلاف کارروائی کی گئی ہے‘ بعد میں سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔

Tags: