پاکستان میں ’’احتجاجی‘‘ کرائے پر ملنے لگے نیا مافیا فروغ پارہا ہے، بی بی سی

September 22, 2015 1:05 pm0 commentsViews: 47

سڑک کے کنارے دیہاڑی کی تلاش میں بیٹھے مزدور ایک ہزار روپے یومیہ اجرت پر احتجاجی مظاہروںمیں شرکت کرنے لگے
سیاسی پشت پناہی میں پرورش پانے والی مافیا نے درجنوں افراد کے ایسے لشکر پال رکھے ہیں جو رقم کے عوض کہیں بھی احتجاج کرنے کے لیے اپنی خدمات پیش کرنے کے لیے تیار نظرآتے ہیں
پنجاب کے نواحی علاقے کا مافیا گینگ ایک فون کال پر سینکڑوں افراد کو جمع کرسکتا ہے جو مظاہروں کے علاوہ پتھرائو اور املاک کو نذر آتش کرنے کا کام بھی انجام دے سکتے ہیں،بین الاقوامی نشریاتی ادارے کی رپورٹ
لندن( نیٹ نیوز) پاکستان ایسا ملک بن گیا ہے جہاں اب ’’احتجاجی‘‘ بھی کرائے پر ملتے ہیں سڑک کے کنارے دیہاڑی کی تلاش میں بیٹھے مزدور ایک ہزار یومیہ اجرت لے کر مظاہروں میں شرکت کرنے لگے پاکستان میں کرائے پر احتجاج کرنے والا مافیا ابھر رہا ہے جس کو سیاسی پشت پناہی حاصل ہے بین الاقوامی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرائے کے ’’احتجاجیوں‘‘ کا کاروبار بڑی تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔ لوگوں نے لشکر پال رکھے ہیں جو معاوضے کے عوض کہیں بھی احتجاج کرنے کیلئے اپنی خدمات پیش کرتے ہیں۔ ایسے لشکر پالنے والے اسے ’’ عوامی و معاشرتی خدمت‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔ بی بی سی نے اپنی ایک رپورٹ میں گوجرانوالہ کے نواحی علاقے کے رہائشی خواجہ کا حوالہ دیا ہے جس کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک فون کال پر سینکڑوں لوگوں کو جمع کر سکتا ہے۔ جو نہ صرف احتجاجی مظاہرہ کر سکتے ہیں بلکہ صورتحال کے مطابق پتھرائو اور املاک کو نذر آتش کرنے کا کام بھی کر سکتے ہیں۔ خواجہ کے مطابق کچھ عرصہ قبل اس نے اپنے بندوں کے ہمراہ ریلوے ٹریک بند کر دیا تھا،۔ جس پر انتظامیہ کو ان کے مطالبات ماننا پڑے۔ خواجہ کے مطابق جب لوگ اپنے جائز مطالبات منوانے کی خاطر حکومتی طفل تسلیوں سے مایوس ہوجاتے ہیں تو میرے پاس آتے ہیں لوگوں کو حکومت سے زیادہ مجھ پر اعتماد ہے۔ خواجہ کے مطابق مجمع کے جذبات ابھارنے کیلئے مذہبی نعروں کا استعمال ان کا خاص ہتھیار ہے۔ خواجہ کی وسیع و عریض حویلی میں ایک مسجد بھی ہے۔ جہاں کا امام بھی وہ چنتا ہے اور وہاں اصول بھی اس کے چلتے ہیں۔ خواجہ کو دیہاتی زبان میں ڈیرے دار کہا جاتا ہے۔ شہر کے مضافاتی علاقے میں جرائم پیشہ افراد کے ایک اور اڈے میں درجنوں مند افراد کلوشنکوفیں تھامے پھر رہے تھے یہ سب بھی ’’کرائے کے احتجاجی‘‘ تھے، مسلح محافظوں کے جلو میں بیٹھا انکا لیڈر اپنے بیش قیمت موبائل فون پر کسی ڈیل میں مصروف تھا۔ وہ کسی کو کہہ رہا تھا کہ اسے صرف اور صرف نقد رقم چاہئے۔ کیونکہ بندوں گاڑیوں اور اسلحے کا انتظام اس کے بغیر ممکن نہیں۔ اس نے بتایا کہ اس کے گاہکوں کی اکثریت اصل میں تو ذاتی جھگڑوں کے حل یا زمینوں پر قبضے کرنے کیلئے اس کی خدمات لیتی ہے تاہم اس کے مطابق معاملات کو مذہبی رنگ دیکر وہ اپنے سار ے جرائم پر پردہ ڈالنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور پولیس یا کوئی اور انہیں پوچھتا تک نہیں۔ اس نے بتایا کہ مذہبی جماعتیں اکثر و بیشتر اپنے مخالفین کو سبق سکھانے کیلئے ہماری خدمات حاصل کرتی ہیں۔ سیاسی جماعتیں بھی ہمارے کلائنٹس میں شامل ہیں۔ اگر چہ پنجاب میں بہت سی شدت پسند مذہبی جماعتیں کالعدم قرار پائی جا چکی ہیں تاہم ا س کا کہنا ہے کہ اس سے ہمارا کام اور آسان ہوگیا ہے۔ ہم پس پردہ رہ کر اپنا کام کر رہے ہیں اور کوئی ہم پر انگلی بھی نہیں اٹھاتا، حیران کن طور پر دیگر شعبوں کی طرح اس نے بھی اپنی خدمات جیسا کام ویسا معاوضہ، زیادہ تشدد زیادہ دام، اس نے بتایا کہ اگر کسی کو جلانا ہو یا سر عام مارنا ہو تو اس کا معاوضہ الگ وصول کیا جاتا ہے۔ میرے پاس ہر قسم کے کام کے ماہر بندے موجود ہیں۔ اس دھندے میں ملوث ایک اور شخص نے بتایا کہ مجبور و بے بس لوگ اور روزانہ دیہاڑی کی تلاش میں سڑک کے کنارے بیٹھنے والے مزدور با آسانی انکا مہرہ بن جاتے ہیں۔ جنہیں عموماً اوسطاً ایک ہزار روپے فی کس معاوضہ دیا جاتا ہے۔ انہیں کھانا اور ٹرانسپورٹ مہیا کی جاتی ہے۔ اور انہیں اس بات کی ضمانت دی جاتی ہے کہ گرفتاری کی صورت میں انہیں رہا کرایا جائے گا۔ اس کے بقول ہمارے انتظامیہ میں ہر سطح پر رابطے ہیں اور ہر جگہ پیسہ کھلایا جاتا ہے۔ دوسری جانب پولیس افسر سہیل سکھیرا نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات کا تواتر سے رونما ہونا پولیس کی ناکامی ہے۔ انہوں نے ایسے گروہوں کی موجودگی کا اعتراف بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کرائے کے ان احتجاجیوں کو پالنے والوں کو سیاسی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے اور انتظامیہ کی نسبت ان کا اثر و رسوخ بھی زیادہ ہوتا ہے۔ اسے متوازی نظام حکومت کہنا غلط نہ ہوگا، ایسے لوگوں کے سامنے پولیس عموماًبے بس نظر آتی ہے۔ کیونکہ ان کی گرفتاری کرنیوالے پولیس افسر کی حفاظت کی ذمہ داری کوئی لینے کو تیار نہیں ہوتا۔ اگر کوئی پولیس افسر کسی کو اس کیس میں گرفتار بھی کر لے تو الٹا اس کے خلاف کیس درج ہوجاتا ہے۔ اس صورتحال میں کوئی پولیس افسر اپنی جان اور روزی روٹی کو دوسروں کی خاطر خطرے میں کیونکر ڈالے گا دوسری جانب ماہرین نفسیات کاکہنا ہے کہ برسوں سے جاری دہشت گردی اور انتہا پسندی کے باعث ملک سے تحمل اور برداشت کا کلچر ناپید ہوتا جا رہا ہے حکومتوں کی اس معاملے سے نمٹنے کی ناکافی استعداد کار بھی صورتحال کو مزید گھمبیر کرتی جا رہی ہہے جس کی وجہ سے کرائے کے احتجاجیوں کا کاروبار روز افزوں ہے۔

Tags: