پانی چوری کرنے پر 10 سال قید اور 10 لاکھ جرمانہ ہوگا سخت مانیٹرنگ ہوگی

September 22, 2015 1:36 pm0 commentsViews: 20

صارفین فوری طور پر اپنے کنکشن منظور کرائیں بصورت دیگر کسی بھی وقت ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوسکتی ہے
پانی چوروں کے خلاف ان کے رہائشی علاقوں کے متعلقہ تھانوں میں آرڈیننس کے تحت مقدمات درج کئے جائیں گے
کراچی ( سٹی رپورٹر) ایم ڈی واٹربورڈ مصباح الدین فرید نے فوری طور پر ان ریونیو افسران کو جو ریونیو کا ہدف پورا نہ کرنے پانی کے بلز کی مکمل تقسیم میں دلچسپی نہیں لیتے ، بڑے سائز کے واٹرو سیوریج کنکشنز کے معاملات میں قانونی تقاضوں کو پورا نہ کرنے،اور قانون و مقررہ شرح کے مطابق پوری رقوم کے چالان نہ بنانے والوں سمیت ریونیو افسران کی کارکردگی کا 2سال کا ریکارڈ جمع کردہ رقوم کے چالان سمیت طلب کرلیا ہے ،تاکہ کثیر المنزلہ عمارتوںمیں منظورشدہ کنکشنز کی ریکوری واٹر کنکشن کے سائز کے مطابق وصول کرنے کا جائزہ لیا جاسکے علاوہ ازیں تمام ریونیو افسران کو ان کی 2سالہ کارکردگی کا جائزہ لے کر ان کی تقرری کی جائے گی ، ان اقدامات کا مقصد ادارہ میں ٹرانسپرنسی اور مالی طور پر واٹربورڈ کو مستحکم ادارہ بنانا ہے تاکہ واٹربورڈ کے مالی وسائل میں گرانقدر اضافہ ہوسکے اور شہریوں کو واٹربورڈ فراہمی ونکاسی آب کی مزید بہتر سہولتوں کی فراہمی کو ممکن بناسکے ، انہوں نے یہ ہدایت بھی کی کہ پانی کی چوری کرنے والوں کے خلاف فوری طور پر محکمہ ریونیو کارروائی کرے لہٰذا ایم ڈی واٹر بورڈ کی ہدایت پر واٹربورڈ کا ریونیو ڈپارٹمنٹ پانی چوروں کے خلاف فوری طور پر سخت کارروائی کا آغاز کررہا ہے ،پانی چوروں کے خلاف ان کے رہائشی علاقوں کے متعلقہ تھانوں میں مقدمات درج کرائے جائیں گے جو پا نی چوروں کے خلاف نئے آرڈیننس کے تحت درج ہو ں گے ،جس کے تحت پانی چوروں کو 10سال قید 10لاکھ روپے جرمانہ کی سزا دلائی جاسکے گی ڈ ی ایم ڈی ریو نیو محمد اسلم خان نے ایم ڈی واٹربور ڈ کی ہدایت پر محکمہ ریونیو کے افسران اور اہلکاروں کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ پانی چوروں کے خلاف کارروائی کا بلا تاخیر آغاز کیا جائے ، واٹربورڈ کی لائنوں ، کینالز ، پمپنگ ہاؤسز ، کنڈیوٹ ، سائفن ،ریزر وائر اور واٹر بورڈ کے چیمبرز سے کمرشل ،غیر قانونی ہائیڈرنٹس ،انڈسٹریل یا رہائشی مقاصد کے لئے پانی چوری کرنے والوں کے خلاف متعلقہ تھانوں میں سیکشن 14-Aسندھ ایکٹ نمبر 10،1996کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ (ترمیمی)آرڈیننس 2015کے تحت مقدمات درج کرائے جائیں ،واضح رہے کہ اس قانون کے تحت پانی چوروں کو 10سال قید یا 10لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جاسکیں گی انہوں نے ریونیو ڈپارٹمنٹ کے تمام ڈائریکٹرز اور ڈپٹی ڈائریکٹرز کو ہدایت کی کہ اپنی علاقائی حدود میں پانی چوروں اور پانی چوری کی کارروائیوں پر کڑی نظر رکھیں۔

Tags: