سندھ حکومت چنگ چی رکشوں کو مشروط اجازت دینے پر رضا مند

September 24, 2015 2:10 pm0 commentsViews: 43

موٹر سائیکل رکشوں میں ڈرائیور کے علاوہ صرف 4 مسافر بٹھانے کی اجازت ہوگی‘معیاری حفاظتی اقدامات بھی کرنا ہوں گے
چنگ چی رکشوں کو لنک روڈز پر چلنے کی اجازت ہوگی‘ سیکریٹری ٹرانسپورٹ نے سپریم کورٹ میں رپوٹ پیش کردی
کراچی( اسٹاف رپورٹر) صوبائی حکومت نے متبادل ٹرانسپورٹ سے متعلق رپورٹ سپریم کورٹ میں رپورٹ پیش کر دی جس میں چنگ چی رکشوں کو مشروط اجازت دینے پر رضا مندی ظاہر کی گئی ہے اور مستقبل میں ٹرانسپورٹ کے منصوبوں کی تفصیلات بیان کی ہے۔ جسٹس امیر ہانی مسلم اور جسٹس گلزار احمد پر مشتمل بنچ نے اس رپورٹ کے جائزے اور جواب داخل کرنے کیلئے عبدالوحید ایڈووکیٹ کی جانب سے مہلت طلب کرنے پر سماعت آئندہ سیشن تک ملتوی کر دی۔ سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چنگ چی رکشوں پر پابندی کے خلاف جماعت اسلامی کراچی اور چنگ چی رکشہ ایسوسی ایشن کی جانب سے عبدالوحید ایڈووکیٹ کے توسط سے درخواست دائر کی گئی۔ سماعت کے موقع پر جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن، زاہد عسکری بھی عدالت میں موجود تھے۔ عدالت میں سیکریٹری ٹرانسپورٹ کی متبادل ٹرانسپورٹ کی پیش کر دہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ سندھ حکومت نے شمسی توانائی سے چلنے والے رکشے در آمد کرنے پر غور شروع کر دیا ہے کراچی ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے قیام کا بل زیر التوا ہے توقع ہے کہ اتھارٹی کا قیام جلد ہی عمل میں آجائے گا۔ اس کے علاوہ جاپانی کمپنی کی مدد سے کراچی سر کلر ریلوے کی بحالی کا فیصلہ کیا گیاہے ، رپورٹ میں بتایا گیا کہ100 سی سی موٹر سائیکل رکشوں کو سڑکوں پر لانے کی مشروط اجازت دی جا سکتی ہے۔ اس کیلئے ان کو معیاری حفاظتی اقدامات کرنا ہوں گے۔ ان چنگ چی رکشوں کو صرف لنک روڈ پر چلنے کی اجازت ہوگی۔ تاہم انہیں ڈرائیور کے علاوہ صرف4 مسافر بٹھانے کی اجازت ہوگی۔ صوبائی حکومت نے سی این جی رکشوں پر بھی یہی معیار لاگو کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماڈل کالونی سے مزار قائد تک کوریڈور بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اس 21 کلو میٹر طویل کوریڈور سے یومیہ ساڑھے 3لاکھ مسافر مستفید ہوں گے۔ دائود چورنگی لانڈھی سے ریگل تک بھی کوریڈور تعمیر کیا جائے گا۔ 26 کلو میٹر طویل اس کوریڈور سے ڈیڑھ لاکھ مسافر یومیہ فائدہ اٹھائیں گے۔

Tags: