سندھ میں بلدیاتی الیکشن ملتوی ہونے کا خدشہ

September 29, 2015 2:54 pm0 commentsViews: 24

الیکشن کمیشن نے نئی حلقہ بندیاں کرنے کیلئے حکومت سندھ کو خط لکھ دیا
نئی حلقہ بندیاں کرکے سرکاری اعلامیہ جاری کیا جائے، سندھ حکومت ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کریگی
کراچی( اسٹاف رپورٹر) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سندھ میں شہری اور دیہی بلدیاتی حلقہ بندیوں کے حوالے سے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق نئی حلقہ بندیاں کرنے کیلئے حکومت سندھ کو خط لکھ دیا ہے‘ اختیارات ارو ردوبدل کی اس جنگ میں سندھ میں بلدیاتی انتخابات ملتوی ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے‘ الیکشن کمیشن کے مطاعق سندھ ہائی کورٹ کے18 ستمبر کے فیصلے پر عملدرآمد کیلئے الیکشن کمیشن نے ایک کمیٹی صوبائی الیکشن کمیشن کی سربراہی میں قائم کی جس میں سیکریٹری و ڈپٹی سیکریٹری بلدیات حکومت سندھ‘ صوبے کے تمام ریجنل الیکشن کمشنرز‘ ضلعی الیکشن کمشنرز اور حلقہ بندی افسرن شامل تھے‘ کمیٹی نے اپنی سفارشات مرتب کرکے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو بھیج دی اور الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ان تجاویز کا جائزہ لے کر حکومت سندھ کو ہدایت کی ہے کہ عدالتی حکم کے مطابق شہری اور دیہی حلقہ بندیاں کرکے سرکاری اعلامیہ جاری کیا جائے‘ الیکشن کمیشن کے مطابق امید واروں کو دوبارہ کاغذات نامزدگی جمع نہیں کرانے ہوں گے بلکہ متعلقہ ریٹرننگ افسران کی باہمی مشاورت سے ردوبدل کیا جائیگا‘ ذرائع کا کہنا ہے کہ اب فیصلہ حکومت سندھ نے کرنا ہے کہ سندھ ہائی کورٹ کے18دسمبر کے مطابق حلقہ بندیاں کرنی ہیں یا نہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومتی ذمہ دار نمائندے کا کہنا ہے کہ حکومت سندھ بلدیاتی حلقہ بندیوں میں کوئی ردوبدل نہیں چاہتی ہے اور وہ سپریم کورٹ میں سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

900 ارکان پارلیمنٹ پر معطلی کی تلوار لٹکنے لگی مسلم لیگ ن نے بلدیاتی الیکشن کیلئے حکمت عملی تیار کرلی
اسلام آباد( آئی این پی) اراکین پارلیمنٹ کی جانب سے اثاثوں کی تفصیلات جمع کروانے میں2 دن باقی رہ گئے۔ 957 ارکان ایسے ہیں جنہوں نے اب تک اثاثوں کی تفصیلات جمع کروانے کی زحمت نہیں کی۔ ان پر معطلی کی تلوار لٹکی ہوئی ہے۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن نے پی کے93 سے متعلق امیر جماعت اسلامی کی تنقید کو بلا جواز قرار دیدیا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق اب تک 208 ارکان پارلیمنٹ نے اپنے مالی اثاثوں کی تفصیلات جمع کرا دی ہیں جن میں وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید بھی شامل ہیں۔ الیکشن کمیشن حکام کے مطابق ارکان پارلیمنٹ کو5 بار یاد دہانی کے خطوط لکھے جا چکے ہیں جس کے باوجود بہت سے ارکان کی طرف سے تفصیلات جمع کرانے میں عدم دلچسپی دیکھنے میں آرہی ہے ۔ 3 وزرائے اعلیٰ سمیت کئی وزراء نے اثاثوں کی تفصیلات جمع نہیں کرائیں۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اثاثوں کی تفصیلات جمع کروانے کی آخری تاریخ 30 ستمبر ہے۔ اگر مقررہ تاریخ تک اثاثوں کی تفصیلات جمع نہ کروائیں تو ارکان کی اسمبلی رکنیت معطل کی جا سکتی ہے۔

Tags: