امریکہ پیسے اور طاقت کے زور پر امن قائم نہیں کرسکتا‘ اوباما

September 29, 2015 2:57 pm0 commentsViews: 34

امریکہ چاہے کتنا ہی طاقتور ملک کیوں نہ ہو پوری دنیا کے مسائل تنہا حل نہیں کرسکتا‘ عراق جنگ سے سبق سیکھا ہے
داعش جیسے خونخوار گروپوں کی اب دنیا میں کوئی جگہ نہیں‘ مسائل مل کر حل کرنا ہونگے‘ جنرل اسمبلی سے خطاب
نیو یارک( مانیٹرنگ ڈیسک/ ایجنسیاں) امریکی صدر بارک اوباما نے کہا ہے کہ امریکا دنیا میں امن کیلئے تنہا کچھ نہیں کر سکتا۔ مسلمانوں کو داعش جیسے شدت پسند نظریات کو مسترد کر دینا چاہئے کیونکہ ایسے خونخوار گروپوں کی اب دنیا میں کوئی جگہ نہیں، امریکا چاہے کتنا ہی طاقت ور ملک کیوں نہ پوری دنیا کے مسائل تنہا حل نہیں کر سکتا۔ عالمی سیاست تبدیل ہو رہی ہے اور علاقوں اور ملکوں پر قابض ہونا اب طاقت کی علامت نہیں رہا۔ ہم نے عراق جنگ سے سبق سیکھا ہے کہ پیسے اور طاقت کے زور پر کسی دوسرے ملک میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ ایران کے جوہری تنازع نے ثابت کیا ہے کہ اصولوں پر مبنی سفارت کاری اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ امریکا، شام کے مسئلے کے حل کیلئے ایران اور روس سمیت تمام ملکوں کے ساتھ تعاون پر آمادہ ہے ۔ مشرقی وسطیٰ اور شمالی افریقی ممالک کے مسائل پیچیدہ نوعیت کے ہیں جنہیں حل کرنا صرف امریکا کے بس کی بات نہیں، سب کو کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ بارک اوباما نے کہا کہ امریکا چاہے کتنا ہی طاقت ور ملک کیوں نہ ہو پوری دنیا کے مسائل تنہا حل نہیں کر سکتا۔ امریکا نے عراق جنگ سے سبق سیکھا ہے کہ طاقت اور پیسے کے زور پر دوسرے ملک میں امن قائم نہیں کیا جا سکتا، صدر اوباما کا کہنا تھا کہ عالمی مسائل اور تنازعات کے حل کیلئے مختلف اقوام کو باہمی تعاون میں اضافہ اور بڑے ممالک کے رہنمائوں کو عالمی سفارت کاری میں فعال کردار ادا کرنا چاہئے۔ اپنے خطاب میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اختلافات کے حل کیلئے باہمی تعاون اور رابطوں پر انحصار کرنا ہوگا، ایران کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے صدر اوباما کا کہنا تھا کہ ایران کے جوہری تنازع نے ثابت کیا ہے کہ اصولوں پر مبنی سفارت کاری اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

Tags: