سانحہ منیٰ میں شہید پاکستانیوں کی تعداد 42 ہوگئی درجنوں لاپتہ

September 29, 2015 3:06 pm0 commentsViews: 40

حکومت شہداء کے لواحقین کو فی کس 5 لاکھ روپے اور زخمیوں کو 2 لاکھ روپے امداد فراہم کرے گی‘ طارق فضل چوہدری
ہر شہید کے 2 یا 3 لواحقین کو اپنے پیاروں کی قبروں پر فاتحہ خوانی اور عمرے کیلئے سرکاری خرچ پر سعودی عرب بھیجا جائے گا‘ پریس کانفرنس
اسلام آباد/ منیٰ ( خبر ایجنسیاں/مانیٹرنگ ڈیسک) سانحہ منیٰ میں شہید ہونے والے پاکستانیوں کی تعداد 42 تک جا پہنچی ہے جبکہ تاحال درجنوں حاجی لاپتہ ہیں جن سے متعلق معلومات کی فراہمی کیلئے ہیلپ لائن ڈیسک قائم اور ان کی تلاش کا کام جاری ہے۔ حکومت نے شہداء کے لواحقین کو فی کس5 لاکھ جبکہ زخمیوں کو2,2 لاکھ روپے امداد دینے کے علاوہ حج مشن ختم ہونے کے بعد ہر شہید کے2 سے3 لواحقین کو سرکاری خرچ پر عمرے پر بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ تا کہ وہ اپنے پیاروں کی قبروں پر فاتحہ خوانی کر سکیں۔ سانحہ منیٰ کیلئے فوکل پر سن طارق فضل چوہدری نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ زخمیوں کی پاکستان آمد پر حکومت علاج معالجہ کرائیگی۔ 63 لا پتہ افراد کو پیاروں سے ملنے کیلئے سعودی عرب میں موجود پاکستانی سفارتخانے کے اہلکار کام کر رہے ہیں۔ طارق فضل چوہدری نے سانحہ منیٰ میں شہید ہونیوالے افراد کی تعداد کے حوالے سے سعودی حکومت کے دعوے کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ منی میں کل1100 افراد شہید ہوئے۔ سعودی حکومت نے1100 افراد جو شہید ہوئے ان کی تصاویر جاری کی ہیں۔ اور ہمارے پاس جو فہرست موجود ہے وہ بھی1100 افراد کی ہے۔ شہید ہونیوالے افراد کی تصاویر جدہ کے سفارتخانے میں لگائی گئی ہیں۔ وزیر اعظم کی ہدایت پر پاکستان سمیت سعودی عرب میں ہیلپ لائن قائم کر دی گئی ہے۔ معلومات کیلئے ٹول فری نمبر 042111725425 اور بیرون ممالک سے فون کرنے والوں کیلئے رابطہ نمبر 8001166622 دیا گیا ہے اور لا پتہ افراد میں سے آخری فرد کے ملنے تک وزیر مذہبی امور مکہ مکرمہ میں ہی رہیں گے۔ وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستانی شہداء کی تعداد42 تک جا پہنچی ہے۔ جبکہ اب بھی63 سے زائد حاجی لا پتہ ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔ پاکستان حج مشن کے مطابق شہید ہونے والے 7 پاکستانیوں کو مکہ مکرمہ کے قبرستان المیعصم میں سپرد خاک کر دیا گیا ہے۔ جن میں کراچی کے محمد اسماعیل، وہاڑی کی عزیز مائی اور قلعہ عبداللہ کی شاکرہ بی بی، زینب عید محمد، ایبٹ آباد کے زاہد گل اورگل شہناز جبکہ لاہور کے محمد ابراہیم شامل ہیں۔

سانحہ منیٰ، سعودی ایئر لائن کی ملازم3 پاکستانی خواتین تاحال لاپتہ
کراچی سے تعلق رکھنے والے خواتین خدیجہ، ردا، اور صبا دیگر ملازمین کے ساتھ رمی کیلئے جارہی تھیں
بھگڈر کے باعث تینوں خواتین بچھڑ گئیں، موبائل فون بند ہو گئے، تلاش کا کام جاری
کراچی( مانیٹرنگ ڈیسک) کراچی سے تعلق رکھنے والی سعودی ایئر لائن کی ملازم تین خواتین سانحہ منیٰ کے بعد سے لا پتا ہیں ان کے بارے میں معلومات نہ ملنے پر اہل خانہ بہت پریشان ہیں۔ نجی ایئر لائن کی ملازم بشریٰ خالق کے بھائی ضیاء خالق نے بتایا کہ ان کی بہن تین دیگر ملازمین خواتین خدیجہ، ردا اور صبا کے ساتھ رمی کے مقام کی طرف جا رہی تھیں کہ ہڑ بونگ کے باعث بچھڑ گئیں اب تک صرف صبا سے بات ہو پائی ہے اس نے بتایا کہ رمی کے دن ان کی بہن بشریٰ خالق اپنی ساتھیوں، خدیجہ، ردا اور صبا کے ساتھ تھیں۔ لوگوں نے جب بد حواس ہو کر بھاگنا شروع کیا تب سے اب تک کوئی رابطہ نہیں ہو سکا۔ ان کے موبائل بند ہیں۔ تلاش کرنے کی تمام کوششیں ناکام رہی ہیں۔ شہداء اور زخمیوں کی فہرستوں میں بھی ان کے نام نہیں۔ جس ایئر لائن میں وہ ملازم ہیں ان کی طرف سے تسلیاں دی جا رہی ہیں کہ انہیں تلاش کیا جا رہا ہے جیسے ہی کوئی اطلاع ملے گی بتا دیا جائے گا۔

Tags: