عید قرباں پر عارضی مزدوروں اور ٹھیکیداروں کی بھی چاندی ہوگئی

September 29, 2015 3:14 pm0 commentsViews: 61

ٹرالی والے قربانی کرنیوالوں سے فی آلائش 120 روپے وصول کرکے ٹھیکیدار کو 200 میں فروخت کرتے رہے
اوجھڑی اور آنتیں صاف کرنے کے 300 اور ٹھیکیدار کو آگے فروخت کرکے فی دانہ 500 روپے کمائے‘ایکسپورٹر کو 1500 میں فروخت
کراچی( کامرس رپورٹر) بقر عید کے تینوں دنوں میں عارضی روزگار حاصل کرنے والے ہزاروں افراد سمیت ایکسپورٹرز نے لاکھوں روپے کمائے آلائشیں اٹھانے کیلئے ٹرالی والے مزدوروں نے ایک طرف قربانی کرنے والوں سے فی کس 80 سے120 روپے وصول کئے تو دوسری طرف انہی آلائشوں کو مقامی ٹھیکیداروں کو 200 روپے فی آلائش فروخت کیا گیا آلائشیں صاف کرنے والی خواتین اور مردوں نے اوجھڑی اور آلائشیں صاف کرنے کا معاوضہ 300 روپے وصول کیا۔ اوجھڑی سے بٹ علیحدہ کرکے فی دانہ ٹھیکیداروں نے500 روپے فی عدد کمائے۔ واضح رہے کہ ان بٹوں کو نمک لگا کر سائٹ میں واقع کھلے گوداموں میں رکھا گیا ہے۔ سوکھنے کے بعد پیکنگ کرکے یہی بٹ فی عدد1500 روپے ایکسپورٹر کو فراہم کی جاتی ہے۔ جو چین کو 1500 ڈالر فی عدد کے حساب سے ایکسپورٹ کر دی جاتی ہے۔ چینی بٹ کھانے کے بڑے شوقین ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ شہر میں جا بجا چربی، منہ کی کھال، ہڈیاں، جانوروں کی دم اور بکرے کی آنتیں خریدنے والے ہزاروں تاجروں نے چربی20 روپے کلو، منہ کی کھال50 روپے کلو، ہڈیاں20 روپے کلو، بکرے کی آنتیں40 روپے کلو اور دم کے بال50 روپے کلو میں خرید کر جمع کئے جو صابن بنانے والے کارخانے داروں کو150 روپے فی کلو فروخت کر دئیے گئے اس طرح منہ کی کھال سے بٹوے اور پرس، ہڈیوں سے برتن بنانے والے میلا مائن کارخانے داروں نے سائٹ اور کورنگی میں واقع کرشنگ پلانٹ کیلئے ٹھیکیداروں سے100 روپے کلو خریدے بکرے کی آنتوں سے آپریشن کا دھاگہ تیار کیا جاتا ہے۔ جبکہ دم کے بالوں سے برش اور وگ تیار کی جاتی ہے۔

Tags: