واٹر بورڈ کی اراضی پر قائم تجاوزات کے خاتمے کی رپورٹ طلب

September 29, 2015 3:15 pm0 commentsViews: 24

چیف سیکریٹری سندھ نے ایس تھری پروجیکٹ کی پی سی ون کو تین دن میں پیش کرنے کی ہدایت کی ہے
کراچی( اسٹاف رپورٹر) چیف سیکریٹری سندھ محمد صدیق میمن نے کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کی اراضی پر قائم تجاوزات اور تجاوزات کے خاتمے سے متعلق رپورٹ جمعہ2 اکتوبر 2015ء تک طلب کر لی ہے۔ اور محکمہ منصوبہ بندی و ترقیاتی کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری اعجاز علی خان سے گریٹر کراچی سیوریج ایس تھری پروجیکٹ سمیتKW&SB کے معاملات پر تبادلہ خیال کے بعد ایس تھری پروجیکٹ سمیت KW&SB کے معاملات پر تبادلہ خیال کے بعد ایس تھری پروجیکٹ کی پی سی ون تین روز کے اندر طلب کر لی ہے۔ وہ پیر کو سندھ سیکریٹریٹ میںKW&SB سے متعلق معاملات کے جائزہ اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ چیف سیکریٹری نے واٹر بورڈ حکام پر زور دیا ہے کہ وہ کراچی کے شہریوں کو درپیش فراہمی و نکاسی آب کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرائیں اور کراچی میں موجود صنعتی اداروں کی بستیوں واقع کورنگی، لانڈھی، فیڈرل بی ایریا، نارتھ کراچی اور سائٹ، شیر شاہ کی صنعتیں ان کے صنعتی علاقوں پر کمبائنڈ الفیولینٹ ٹریٹمنٹ پلانٹس کی تنصیب کے سلسلے میں ان کے وعدوں پر عملدر آمد کرائیں۔

واٹر بورڈ میں مالیاتی نظم و ضبط قائم کیا جائے، مصباح الدین
تنخواہوں، طبی سہولیات اور پنشن کی ادائیگی کو اولین ترجیح دی جائے، محکمہ مالیات کی ری اسٹرکچرنگ کی بھی ہدایت
ٹھیکیداروں کو واجبات کی ادائیگی مساویانہ بنیاد پر کی جائے، تاخیری حربوں سے گریز کیا جائے، ایم ڈی واٹر بورڈ
کراچی ( سٹی رپورٹر)کراچی واٹراینڈ سیوریج بورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر مصباح الدین فرید نے ہدایت کی ہے کہ محکمہ مالیات واٹر بورڈمیں مالیاتی ڈسپلین قائم کرے تمام معاملا ت شفا ف ہوں ، ادائیگیوں اور اخراجات کیلئے ترجیحات کا تعین کیا جائے، تنخواہوں، طبّی سہولتوں اور پنشن کی ادائیگی کو اوّلین ترجیحات میں شامل کیا جائے، محکمہ مالیا ت میں حسبِ ضرورت ری اسٹرکچرنگ کی جائے، اہل افراد کو ذمہ داریاں تفویض کی جائیں اور نچلی سطح سے تبدیلی کا عمل شروع کیا جائے، یہ ہدایات انہوں نے محکمہ مالیات کی بریفنگ کے موقع پر دیں، انہوں نے کہا کہ ریونیو کی وصولی کو یقینی بنایا جائے ، ادائیگیوں میں ترجیحات کا تعین کیا جائے، تنخواہوں اور پینشنز کے واجبات کی ادائیگی اور طبّی سہولتوں کو اوّلین ترجیح دی جائے ، ٹھیکیداروں کو واجبات کی ادائیگی، مساویانہ کی جائے ، انہوں نے کہا کہ بجٹ کا صحیح استعمال افسران کی ذمہ داری ہے تا کہ واٹر بورڈ مالی طور پر مستحکم ہو اور سسٹم کو بہتر بنانے کیلئے مطلوبہ فنڈ میسر آ سکیں، بجلی اور فیول کی بچت بھی توجہ طلب ہے، انہوں نے کہا کہ اکائونٹس کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے اور ان کی اصلاح کی جائے تا کہ غلط بلنگ نہ ہو، ایسے اکاؤنٹینٹ جو قوائد و ضوابط سے ہٹ کر کام کر رہے ہیں ان کو تبدیل کیا جائے، مالیاتی معاملات میں غیر ضروری تاخیری حربوں سے قطعی گریز کیا جائے

Tags: