جرائم پیشہ افراد کا ریکارڈ بائیو میٹرک کیا جارہا ہے صوبائی وزیر داخلہ

September 30, 2015 10:40 pm0 commentsViews: 43

خطرناک جرائم پیشہ افراد اپنے گرد گھیرا تنگ دیکھ کر معمولی مقدمات میں ملوث ہو کر جعلی ناموں سے جیل چلے جاتے ہیں
دہشت گردوں کی معاونت کرنے والی بااثر شخصیات کے خلاف شواہد ملنے پر کارروائی کی جائیگی‘ انور سیال کا کراچی میں تقریب سے خطاب
کراچی( اسٹاف رپورٹر) وزیر داخلہ سندھ سہیل انور سیال نے کہاہے کہ دہشت گردوں کی معاونت کرنے والی با اثر شخصیات کے خلاف شواہد پر کارروائی کی جائے گی۔ ملک سے فرار ہونے والے جرائم پیشہ افراد کے خلاف ٹھوس ثبوت حاصل کرکے انہیں واپس وطن لایا جائے گا۔ کراچی آپریشن میں وفاقی حکومت نے سندھ پولیس کو اسلحہ فراہم کیا جب کہ آپریشن کے تمام اخراجات سندھ حکومت برداشت کر رہی ہے۔ رینجرز کو سندھ حکومت نے دہشت گردی کا قلع قمع کرنے کیلئے اختیارات دئیے ہیں۔ دہشت گردی سندھ کا نہیں بلکہ پورے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ گواہوں کے تحفظ کیلئے صرف صوبہ سندھ نے قانون پاس کیا ہے اس پر عملدر آمد کیلئے پالیسی بنائی جا رہی ہے۔ ہوٹل، گیسٹ ہائوسز، اسلحہ فروخت کرنے کی دکانوں، نجی سیکورٹی کمپنیوں کے گارڈز اور کرایہ داروں کی رجسٹریشن کی جائے گی اور ان افراد کی روزانہ کی بنیاد پر چیکنگ کا نظام بنایا جائے گا۔ جرائم پیشہ افراد کا کرمنل ریکارڈ تھانوں اور جیلوں کی سطح پر مرتب کرکے نادرا کے ریکارڈ سے منسلک کیا جائے گا۔ وہ منگل کو کو مقامی ہوٹل میں سندھ پولیس اور نجی موبائل کمپنی کے اشتراک سے بنائے جانے والے سوفٹ ویئر کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی، ایڈیشنل آئی جی کراچی مشتاق مہر، پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈی آئی جی سلطان علی خواجہ اور نجی موبائل سم کمپنی کے بزنس منیجر نصر من اللہ نے بھی خطاب کیا۔ وزیر داخلہ سندھ سہیل انور سیال نے کہا ہے کہ کراچی میں امن و امان کی بحالی کے بعد آٹو میشن سسٹم کے تحت جرائم پیشہ افراد کے ریکارڈ کو بائیو میٹرک کر رہے ہیں خطرناک جرائم پیشہ اپنے گرد گھیرا تنگ دیکھ کر معمولی نوعیت کے مقدمات میں ملوث ہو کر جعلی ناموں سے جیل میں چلے جاتے ہیں اور جب حالات سازگار ہوجاتے ہیں وہ جیلوں سے ضمانت پر رہا ہو کر دوبارہ سنگین وارداتوں کا ارتکاب کرتے ہیں جس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ان کی شناخت میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈرائیونگ لائسنس، اسلحہ لائسنس اور اسلحہ فروخت کرنے والے تاجروں کے ریکارڈ کو بھی مرتب کیا جا رہا ہے تا کہ کراچی کے شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ پولیس افسران و اہلکاروں کا ریکارڈ بھی مرتب کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اسٹریٹ کرائم کے تدارک کیلئے ہر سگنل پر سی سی ٹی وی کیمروں کا جال بچھایا جا رہا ہے اور گاڑیوں کی نمبر پلیٹس کو ایک بار کوڈ الاٹ کیا جائے گا جس سے جعلی نمبر پلیٹ کی فوری طور پر شناخت ہو سکے گی۔ ٹریفک چالان کے نظام کو بھی کمپیوٹرائزڈ کیا جا رہا ہے اور چالان لوگوں کے گھروں پر بھیج دیا جائے گا۔

Tags: