لیاری میں مقابلہ،4گینگ وار کارندے ہلاک کارلفٹر سمیت دیگر دو ملزمان بھی فائرنگ سے مارے گئے

September 30, 2015 10:42 pm0 commentsViews: 44

یونیورسٹی روڈ پر ایدھی ہوم کے سامنے موٹرسائیکل سوار دہشت گردوں کا پولیس موبائل پر حملہ، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا
رینجرز نے خطرناک ملزمان کی موجودگی کی اطلاع پر ریکسرلین میں کارروائی کی تھی، مارے جانے والے ملزمان عزیر بلوچ گروپ کے کارندے تھے اور کالعدم تنظیم کے لیے بھی کام کررہے تھے، دو کارندے زخمی حالت میں فرار ہوگئے
گلستان جوہر میں پرائڈاپارٹمنٹ کے قریب پولیس سے مقابلے میں کارلفٹر مارا گیا، ملزم اینٹی کارلفٹنگ سیل کو سنگین مقدمات میں مطلوب تھا، ٹیپوسلطان روڈپرکارسوارافراد کی فائرنگ سے مبینہ ملزم ہلاک ہوگیا
کراچی( کرائم رپورٹر) کراچی میں پولیس ‘رینجرز اور مجرموں کے درمیان دوبدو مقابلے‘ یونیورسٹی روڈ پر مسلح دہشت گردوں کی پولیس موبائل پر فائرنگ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا‘ لیاری میں رینجرز مقابلے میں4 گینگ وار کارندے ہلاک ہوگئے‘ گلستان جوہر میں کار لفٹر اور ٹیپو سلطان روڈ پر کار سواروں کی فائرنگ سے مبینہ ملزم مارا گیا‘ واقعات کے مطابق ریکسرلین میں لیاری گینگ وار کے کارندوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر رینجرز نے سرچ آپریشن کرتے ہوئے داخلی و خارجی راستوں پر رکاوٹیں لگا کر سیل کردیا‘ رینجرز ترجمان نے بتایا کہ رینجرز کو دیکھتے ہی دہشت گردوں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کردی‘ رینجرز کی جوابی فائرنگ میں گینگ وار کے4 اہم کارندے مارے گئے جبکہ2 زخمی حالت میں رات کی تاریکی اور تنگ گلیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ انہیں اطلاع ملی تھی کہ گینگ وار کارندوں کی بڑی تعداد ریکسر لین میں موجود ہے‘ ہلاک ہونیوالے ملزمان کے قبضے سے بھاری تعداد مین اسلحہ‘ دستی بم برآمد ہوئے ہیں جبکہ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے چاروں ملزمان ریکسر لین لیاری کے رہائشی اور عذیر گروپ کے کاندے ہیں‘ رینجرز ذرائع نے بتایا کہ ہلاک ہونیوالے ملزمان کی شناخت دانش بلوچ عرف کیکڑا ‘ارشد بلوچ عرف گڈو‘ محمد موسیٰ بلوچ‘ محمد کامران عرف نوید کے نام سے ہوگئی ہے‘ جبکہ ملزمان کالعدم تنظیم کیلئے بھی کام کررہے تھے۔ادھر گلستان جوہر پرائڈ اپارٹمنٹ کے قریب اسنیپ چیکنگ کے دوران ایک کار کو روکنے کا اشارہ کیا جس پر کار سوار ملزم نے پولیس پر اندھد دھند فائرنگ کردی‘ پولیس نے ملزمان کا تعاقب کرتے ہوئے مقابلے کے بعد ملزم کو گرفتار کرکے طبی امداد کیلئے اسپتال منتقل کردیا جہاں زخمی دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا‘ ملزم کی شناخت علی حسن عرف عمران بھیو کے نام سے ہوئی ہے‘ پولیس نے ملزم کے قبضے سے اسلحہ اور کار برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے‘ پولیس نے بتایا کہ ملزم کار لفٹر تھا اور اینٹی کار لفٹنگ سیل کو متعدد سنگین وارداتوں میں مطلوب تھا۔ دوسری جانب بہادرآباد کے علاقے ٹیپوسلطان روڈ پر موٹرسائیکل پر سوار23سالہ نامعلوم مبینہ ملزم کرولا کار سوار افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہوگیا،جس کے قبضے سے پولیس نے ایک پستول بھی برآمد کیا،ایس ایچ او اللہ دتہ چوہدری کے مطابق عینی شاہدین نے پولیس کو بتایا ہے کہ موٹرسائیکل سواردو لڑکے اسلحے کے زور پرکار سوار افراد کو روکنے کی کوشش کررہے تھے کہ کار سوار افرا د نے ان پر فائرنگ کردی۔ جس کے نتیجے میں ایک لڑکا موقع پر ہلاک ہوگیا جبکہ اس کا ساتھی اسے چھوڑ کر وہاں سے فرار ہوگیا،ایس ایچ اونے شبہ ظاہر کیا ہے کہ ہلاک ہونے والا لڑکا کار سوار افراد سے لوٹ مارکررہا ہوگا ۔یونیورسٹی روڈ پر ایدھی ہوم کے سامنے موٹر سائیکل سوار ملزمان پولیس موبائل پر اندھا دھند فائرنگ کرکے فرار ہوگئے فائرنگ کے نتیجے میں پولیس موبائل گولیوں سے چھلنی ہوگئی ،تاہم واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ پی آئی بی کالونی کے علاقے یونیورسٹی پر ایدھی ہوم کے قریب کھڑی پولیس موبائل پر دوسری سڑک سے دوموٹر سائیکلوں پر سوار چار نامعلوم ملزمان نے اندھا دھند فائرنگ کردی اور فرار ہوگئے،فائرنگ کے نتیجے میں پولیس موبائل گولیوں سے چھلنی ہوگئی ،اس ضمن میں ڈی ایس پی، پی آئی بی کالونی ناصر لودھی کا کہنا ہے کہ خوش قسمتی سے واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا جبکہ سڑک پر عام شہریوں کے رش کے باعث پولیس اہلکارنے ملزمان پرفائرنگ کرنے کے بجائے ہوائی فائرنگ کی جس پر ملزمان بھی ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہوگئے ،ڈی ایس پی کے مطابق پولیس نے جائے وقوعہ سے گولیوں کے خول تحویل میں لیکر اسے کیمیائی تجزئیے کیلئے لیبارٹری بھجوادیا ہے جبکہ پولیس نے جائے وقوعہ کے اطراف میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تلاش شروع کردی ہے ،پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے میں کونسا گروپ ملوث ہے کہنا قبل از وقت ہوگا۔

Tags: