وزیر اعظم کے جنرل اسمبلی سے خطاب پر بھارتی میڈیا آگ بگولہ

October 1, 2015 3:20 pm0 commentsViews: 20

پہلے خطاب براہ راست دکھایا گیا بعد میں چراغ پاہو کر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ شروع کردیا
آج سے ایک لاکھ روپے نکلوانے پر 600 روپے کٹوتی ہوگی
کراچی( مانیٹرنگ ڈیسک) اقوام متحدہ میں وزیر اعظم نواز شریف کی تقریر نے بھارت میں آگ لگادی‘ بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی80 فیصد تقریر مسئلہ کشمیر پر تھی‘ ایسا خطاب آج تک کسی پاکستانی وزیراعظم نے نہیں کیا‘ وزیراعظم نواز شریف نے امن کی بات کی‘ مگر نفرت کے پجاری بھارتی میڈیا کو ایک آنکھ نہ بھائی‘ وزیراعظم نے جنرل اسمبلی میں بھارت کا اصل چہرہ دکھایا تو بھارتی میڈیا بگولہ ہوگیا‘ پہلے نواز شریف کا خطاب براہ راست دکھایا پھر پاکستان کیخلاف پروپیگنڈا شروع کردیا‘ بھارتی ٹی وی چینلز کے پیٹ میں مروڑ اس بات پر اٹھی کہ نواز شریف نے اپنی تقریر میں کشمیر کا ذکر کیوں کیا۔

مسئلہ کشمیر کا حل نہ ہونا اقوام متحدہ کی ناکامی ہے‘ نواز شریف
قرار دادوں پر ابھی تک عملدر آمد نہ ہونا ادارے کی ناکامی ہے‘ بھارت سیز فائر کرے‘ کشمیر کو غیر فوجی علاقہ قرار دیا جائے
3 دہائیوں سے جاری جدوجہد میں ہزاروں کشمیری شہید ہوئے‘ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے پاکستانی وزیر اعظم کا خطاب
نیو یارک( مانیٹرنگ ڈیسک) مسئلہ کشمیر حل نہ ہونا اقوام متحدہ کی ناکامی ہے‘ بھارت سیز فائر کرے‘ کشمیر کو غیر فوجی علاقہ قرار دیا جائے‘ وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر حل نہ ہونا اقوام متحدہ کی ناکامی ہے جس کی وجہ سے تین دہائیوں میں ہزاروں کشمیری شہید ہوئے ہیں‘ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کشمیر بھارت سے اپنی فوجیں نکالے‘ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے70 ویں اجلاس سے غیر روایتی خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ1997 میں جب تفصیلی مذاکرات شروع ہوئے تو کشمیر کا ایشو بھی بات چیت کے زریعے حل کرنے پر اتفاق ہوا تھا‘ مسئلہ کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر ابھی اتفاق ہوا تھا‘ مسئلہ کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر ابھی تک عمل نہیں ہوا جس کی وجہ سے تین دہائیوں میں ہزاروں بے گناہ کشمیری شہید ہوئے‘ اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل نہ ہونا ادارے کی ناکامی ہے‘ وزیراعظم نے کہا کہ کشمیر اور دہشت گردی سمیت پاکستان اور بھارت کے درمیان 6نکات پر بات چیت ہونی چاہئے‘ پاکستان سلامتی کونسل سمیت اقوام متحدہ میں جامع اصلاحات کا حامی ہے‘ مگر سلامتی کونسل کے مستقل ارکان میں اضافے کی کوئی ضرورت نہیں۔

Tags: