کراچی آپریشن25سال تک جاری رکھ سکتے ہیں، ڈی جی رینجرز

October 1, 2015 3:25 pm0 commentsViews: 42

جرائم پیشہ افراد کے مکمل خاتمے تک جاری آپریشن بند نہیں ہوگا،شہری تعاون نہ کرتے تو یہ آپریشن کبھی کامیاب نہیں ہوتا، میجر جنرل بلال اکبر
شہر میں امن قائم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کررہے ہیں، کراچی کے لوگوں نے اتنی پرامن عید قرباں پہلی مرتبہ دیکھی ہے، کچھ لوگوں کے لیے عیدالاضحی جانوروں کی زیادہ سے زیادہ کھالیں اور ریونیو جمع کرنے کا نام تھی، اب ایسا نہیں ہے
سوشل میڈیا پر دس سال پہلے والا وڈیو کلپ چلایا گیا، رینجرز کی فورس کو جھگڑالو قسم کا لشکر نہیں بننے دیں گے بلکہ اس کا نظم وضبط قائم رکھیں گے، آپریشن میں بہتری لانے کے لیے بزنس کمیونٹی تجاویز دے
کراچی( نمائندہ خصوصی) ڈی جی رینجرز نے کراچی سے جرائم پیشہ عناصر کے مکمل خاتمے تک آپریشن جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم کراچی میں25 سال تک آپریشن جاری رکھ سکتے ہیں جب تک جرائم پیشہ عناصر کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا کراچی کو ایک پر امن شہربنانا چاہتے ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل پاکستان رینجرز سندھ جنرل میجر بلال اکبر نے کہا ہے کہ کراچی میں جرائم پیشہ عناصر کے خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا، چاہے۔ 25 سال بھی لگ جائیں۔ میں نے کراچی میں پہلی بار یہ دیکھا کہ خیر کے نام پر شر کیا جا رہا تھا۔ یہ خدا کی سنت نہیں، میرا تاجر برادری کی وساطت سے ان لوگوں کے پیغام ہے کہ خیر کو خیر رہنے دیں اور شر کو شر سمجھیں، کراچی میں جو زبان استعمال کی جاتی ہے کہ ’’ سیٹنگ ہوگئی‘‘ تو بھائی کوئی سیٹنگ نہیں ہوئی ہم صرف اللہ کے ساتھ سیٹنگ چاہتے ہیں ہم بہت سے معاملات افہام وتفہیم کے ساتھ حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار ڈیفنس میں گولف کلب کنونشن سینٹر میں فیڈرل بی ایریا ایسوسی ایشن ٹریڈ اینڈ انڈسٹری ( فباٹی) کے سالانہ عشائیہ سے خطاب کے دوران کیا، تقریب سے ٹی ڈی اے پی کے چیف ایگزیکٹو ایس ایم منیر، بزنس مین گروپ کے چیئر مین سراج قاسم تیلی، فباٹی کے صدر جاوید غوری نے بھی خطاب کیا۔ جبکہ ایڈیشنل آئی جی سندھ مشتاق مہر، عبدالحسیب خان، راشد احمد صدیقی، زاہد سعید اور دیگر بھی موجود تھے۔ تقریب میں ڈی جی رینجرز کو شہر میں امن کے قیام پر گولڈ میڈل بھی دیا گیا۔ جو انہوں نے پولیس کے نام کرتے ہوئے مشتاق مہر کو پیش کر دیا۔ ڈائریکٹر جنرل پاکستان رینجرز سندھ میجر جنرل بلال اکبر نے کہا کہ اتنی پر امن حیران کن عید قربان پہلی مرتبہ دیکھی ہے۔ اس لئے عید اور اس سے منسلک خوشیاں پیچھے رہ گئی تھیں۔ کچھ لوگوں کیلئے عید الاضحی صرف جانوروں کی زیادہ سے زیادہ کھالیں اور ریونیو جمع کرنے کا نام تھی۔ گزشتہ سالوں میں اربوں روپے کی کھالیں ان لوگوں کے قابو میں آجاتی تھیں لیکن اس بار شاہد 5 سے7 سال پہلے کا ویڈیو کلپ 2015ء میں چلا کر دکھایا گیا رینجرز دو سال سے آپریشن کر رہی ہے۔ اگر کچھ دکھانا ہی ہے تو اس آپریشن کے حوالے سے کچھ دکھایا جاتا۔ ہم غلط بات کا دفاع نہیں کریں گے۔ اور اگر غلطی ہوئی تو اسے درست کریں گے۔ سوشل میڈیا پر ایک کلپ چلایا گیا جس میں دکھایا گیا کہ رینجرز کے جوان کچھ نوجوانوں کی بری طرح سے پٹائی کر رہے ہیں یہ کلپ صرف اس لئے دکھایا گیا کہ لوگ یہ نہ کہیں کہ عید امن سے گزر گئی۔ حالانکہ سوشل میڈیا پر دکھایا جانے والا کلپ 2005ء کا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس شہر میں اس بار سب سے زیادہ قربانی کے جانور فروخت ہوئے۔ قربانی کے جانوروں کی کم سے کم چھینا جھپٹی ہوئی اور کاروبار اچھا ہوا، پاکستان رینجرز نے اس کلپ کی2005ء میں ہی تحقیقات کرکے ملوث سولجرز کو سزا دی تھی، ہم اس فورس کو جھگڑا لو قسم کا لشکر بننے نہیں دیں گے۔ بلکہ ہم اس کا نظم و ضبط قائم رکھیں گے۔ پاکستان رینجرز کا یہ وطیرہ نہیں کہ وہ کسی پر ظلم یا جبر کرے مجھے اس جھوٹے ویڈیو کلپ پر افسوس ہے۔ اس ویڈیو کلپ کے بارے میں اس وقت کی قومی اسمبلی میں باتیں ہوئیں اور اس کلپ کے خلاف یعنی رینجرز کے حق میں سب سے زیادہ ڈاکٹر فاروق ستار بولے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کا ہر فرد امن چاہتا ہے۔ ہم آپریشن کراچی کے امن کیلئے اپنا فرض ادا کر رہے ہیں اگر آپریشن میں مزید بہتری لانے کی ضرورت ہو تو بزنس مین کمیونٹی ہمیں تجاویز دے، لوگوں کو چاہئے کہ غلط کے خلاف بولیں، کراچی میں رینجرز اور پولیس کا مشترکہ آپریشن ہے اور یہ کبھی کامیاب نہ ہوتا اگر کراچی کے شہریوں میں سے کچھ لوگوں نے ہمارے ساتھ تعاون نہ کیا ہوتا۔ ڈی جی رینجرز نے کہا کہ لیگل ایڈ کمیٹی پر کھالوں سے حاصل ہونے والی رقم خرچ کی جائے گی تا کہ یہ عدالتوں سے مجرموں کو بچا سکیں اور جب کوئی ان کے خلاف گواہی دینے کی کوشش کرے تو انہیں اور پراسیکوٹر کو مار دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ کراچی کے شہریوں کو بے وقوف سمجھتے ہیں کیا اس شہر کے لوگ یہ نہیں جانتے کہ پچھلے30 سالوں میں انہوں نے عقوبت خانے بنا رکھے تھے جہاں لوگوں کے جسم پر ڈرل سے سوراخ کئے جاتے تھے اور انہیں مار کر کہا جاتا ہے کہ آج اتنی وکٹیں گرا دیں۔ پندرہ پندرہ سال سزا والے قیدیوں کو یہ جیل میں سپورٹ کرتے ہیں اور جب وہ ان کے کام کا نہ رہے تو ان سے منہ موڑ لیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ وہ ان کا کارکن نہیں ہے۔

Tags: