غیر ملکی این جی اوز کو حکومت کیساتھ 3 سالہ معاہدہ کرنا ہوگا‘ چوہدری نثار

October 2, 2015 1:29 pm0 commentsViews: 33

ملک کا آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے‘ یہاں صحیح کام کرنا مشکل اور غلط کام کرنا آسان ہے‘ بڑی بڑی این جی اوز کی رجسٹریشن ہی نہیں ہوئی
بین الاقوامی این جی اوز حکومتی اجازت کے بغیر فنڈ ریزنگ نہیں کرسکیں گی‘ پریس کانفرنس میںاین جی اوز سے متعلق پالیسی کا اعلان
اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک/ خبر ایجنسیاں) وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہا ہے کہ پاکستان میں حکومت کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ یہاں صحیح کام کرنا مشکل ترین اور غلط کام کرنا آسان ترین ہے۔ ملک میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران وزیر داخلہ نے این جی اوز سے متعلق نئی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بڑی بڑی غیر ملکی این جی اوز کی رجسٹریشن نہیں ہوئی۔ سیکورٹی والے علاقوں میں بھی این جی اوز کام کر رہی ہیں انٹیلی جنس کی بنیاد پر بعض این جی اوز کو بند کیا گیا۔ ساڑھے 3 مہینے میں این جی اوز سے متعلق پالیسی تیار کر لی ہے۔ این جی اوز سے متعلق نئی پالیسی کے3حصے ہیں اب این جی اوز کی رجسٹریشن کا معاملہ وزارت داخلہ دیکھے گی۔ بین الاقوامی این جی اوز کو حکومت کے ساتھ3سال کے ایم او یو پر دستخط کرنا ہوں گے۔ این جی اوز حکومت کی اجازت کے بغیر فنڈ ریزنگ نہیں کر سکتیں۔ این جی اوز کے حکام کا ویزا تبدیل نہیں کیا جا سکے گا۔ این جی اوز کی رجسٹریشن کی نگرانی کیلئے کمیٹی بنا دی گئی۔ این جی اوز کی مینوئل رجسٹریشن ختم کر دی گئی ہے اب تمام رجسٹریشن فارم آن لائن ملیں گے۔ این جی اوز کی آن لائن درخواست پر پبلک پراپرٹی ہوگی کسی بھی این جی او کے خلاف کارروائی ہو گی تو وہ بھی مشتہر ہوگی تاہم پالیسی بنانے سے معاملات میں100 فیصد بہتری نہیں آسکتی۔ اس کیلئے مکمل مانیٹرنگ بھی کی جائے گی۔ تمام این جی اوز آئندہ60 دنوں میں درخواست دے سکتی ہیں،۔ این جی اوز کی درخواست موصول ہونے کے 60دنوں تک این جی اوز کام کر سکتی ہیں۔ 60 دنوں بعد حکومت پاکستان یا وزات داخلہ حتمی فیصلہ دیں گے۔ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر رجسٹریشن منسوخ ہوگی۔ کسی کو بھی ملکی مفاد کے خلاف مخصوص ایجنڈے پر کام کی اجازت نہیں دے سکتے۔ حکومت بہتر کام کر رہی ہے ہم نے کراچی آپریشن شروع کیا۔ نیشنل ایکشن پلان بھی ہم ہی نے دیا۔ افغانستان میں کوئی چھینک بھی مارتا ہے تو الزام ہم پر لگا دیا جاتا ہے۔ وہاں سے اس قسم کے بیانات کا آنا افسوسناک ہے۔

Tags: