ولی بابر اور سبین محمود قتل کیس میں گواہوں کو ماردیا گیا ہم نہیں چاہتے ڈاکٹرعاصم کیساتھ بھی ایسا ہو سپریم کورٹ

October 3, 2015 2:22 pm0 commentsViews: 31

سندھ ہائی کورٹ نے ڈاکٹر عاصم کی جان کو خطرہ کااظہارکیا ہے، توازن رکھنا ہے کہ ان کی حفاظت بھی اور علاج بھی
ایسا نہ ہو کہ ڈاکٹر عاصم کو باہر نکالیں تو کوئی گولی یا چاقو کا وار ہوجائے، جسٹس سرمد جلال عثمانی کے ریمارکس
اسلام آباد( نیوز ڈیسک) سپریم کورٹ نے رینجرز حکام کو ہدایت کی ہے کہ ڈاکٹر عاصم کو ان کی مرضی کی طبی سہولیات فراہم کی جائیں‘ جبکہ عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 7اکتوبر تک ملتوی کردی ہے‘ جسٹس سرمد جلال عثمانی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے ڈاکٹر عاصم کی اپیل کی سماعت کی‘ دوران سماعت جسٹس سرمد جلال عثمان ینے ریمارکس دیئے کہ ولی بابر اور سبین محمود قتل کیس میں گواہوں کو قتل کردیا گیا ‘ہم نہیں چاہتے کہ ڈاکٹر عاصم حسین کے ساتھ بھی ایسا ہو‘ جسٹس دوست محمد کھوسہ نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ نے ڈاکٹر عاصم کی جان کے خطرے کااظہار کیا ہے‘ ہمیں توازن رکھنا ہے کہ ڈاکٹر عاصم کی حفاظت ہو اور ان کا علاج بھی ہو‘ ڈاکٹر عاصم کو رینجرز کی حراست سے نکالنا خطرے سے خالی نہیں ‘ایسا نہ ہو کہ ڈاکٹر عاصم کو باہر نکالیں اور کوئی گولی یا چاقو کاوار ہوجائے‘ کیس کی سماعت شروع ہوئی تو عدالت نے استفسار کیا کہ کیا ڈاکٹر عاصم رینجرز کی حراست میں ہیں؟ عدالت کو ڈاکٹر عاصم کے وکیل عابد زبیری نے بتایا کہ وہ رینجرز کے پاس ہیں‘ رینجرز کے ڈاکٹر نے کہا کہ ڈاکٹر عاصم ٹھیک ہیں‘ تاہم اس سے متعلق کوئی رپورٹ نہ دی‘ اس لئے عدالت سے استدعا ہے کہ انہیں دوبارہ اسپتال میں داخل کرایا جائے‘ جس پر جسٹس سرمد جلال عثمانی نے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ڈاکٹر عاصم رینجرز کے پاس محفوظ نہیں؟ اس سے قبل بھی کراچی میں اہم مقدمات کے گواہان کو قتل کیا گیا‘ آپ کے خیال میں ڈاکٹر عاصم کو اسپتال میں دی جانیوالی سیکورٹی کی سہولیات ٹھیک ہیں‘ تو ہم انہیں اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت جاری کردیتے ہیں‘ کراچی میں سیکورٹی کی صورتحال کا مجھے علم ہے‘ کہیں ایسا نہ ہو کہ انہیں اسپتال بھیجیں تو کوئی اور مسئلہ کھڑا ہوجائے۔

Tags: