بینکوںسے جاری ہونیوالے کرنسی نوٹوں میں بھی جعلی ہوتے ہیں سینیٹ کمیٹی

October 3, 2015 2:39 pm0 commentsViews: 16

عید قرباں پر ملک بھر میں جعلی نوٹ پھیلائے گئے اور یہ نوٹ قربانی کیلئے جانوروں کی خریداری میں استعمال کئے گئے‘ سلیم مانڈی والا
جعلی نوٹوں سے متعلق آئندہ ہفتے مہم چلائی جائے گی‘ تمام بینکوں کو نظام کمپیوٹرائزڈ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے‘ اسٹیٹ بینک کے حکام کا موقف
اسلام آباد( خبر ایجنسیاں/ مانیٹرنگ ڈیسک) سینیٹ کی کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں بینکوں کی جانب سے صارفین کو جعلی نوٹ جاری کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئر مین سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت ہوا جس میں کمیٹی کو اسٹیٹ بینک کے امور پر بریفنگ دی گئی۔ بینک حکام نے بتایا کہ2017ء تک بینکوں کیلئے سسٹم تشکیل دے دیں گے۔ جب کہ کمیٹی نے خیبر پختونخوا میں بینکوں سے کم قرضوں کی فراہمی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سلیم مانڈوی والا کا کہنا تھا کہ بینکوں نے صارفین کو جعلی کرنسی نوٹ جاری کئے اور بینکوں سے دی جانے والی رقم میں بھی جعلی نوٹ ہوتے ہیں۔ جس پر اسٹیٹ بینک حکام نے جواب دیا کہ بینک کوئی بھی نوٹ چیک کئے بغیر جاری نہیں کرتا تاہم کرنسی کی تصدیق کی مشینیں بینکوں کو لینا پڑیں گی اور ہم جعلی نوٹوں کو چیک کرنے کیلئے2 مشینیں خرید رہے ہیں۔ کمیٹی نے اسٹیٹ بینک کو ہدایت دی کہ2017ء تک نوٹوں کی تصدیق کیلئے ہر برانچ میں مشینیں لگائیں جائیں۔ ذرائع کے مطابق قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں چیئر مین کمیٹی سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے انکشاف کیا کہ عید قربان کے موقع پر ملک بھر میں بڑے پیمانے پر جعلی کرنسی نوٹ پھیلائے گئے اور یہ نوٹ قربانی کے جانوروں کی خریداری میں استعمال کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اطلاعات بھی زیر گردش رہی ہیں کہ جعلی نوٹوں کی سپلائی میں بعض نجی بینک بھی ملوث رہے ہیں، کمیٹی کے رکن سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ مجھے خود بھی کئی جعلی نوٹ ملے ہیں اور بینکوں کی جانب سے فراہم کئے جانے والے نئے نوٹوں میں بھی جعلی نوٹ شامل تھے، اس موقع پر اسٹیٹ بینک حکام نے کہا کہ تمام بینکوں کو نظام کمپیوٹرائزڈ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ جعلی نوٹوں کی پہچان سے متعلق اگلے ہفتے مہم چلائی جا رہی ہے جس میں نئے کرنسی نوٹوں میں ایسی خصوصیات رکھی گئی ہیں کہ نا بینا افراد بھی جعلی اور اصلی کرنسی نوٹ میں فرق محسوس کر سکے۔

Tags: