میرے بیانات سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو اس پر افسوس ہے،ا لطاف حسین

October 3, 2015 2:42 pm0 commentsViews: 30

متحدہ کے کارکنوں کو غدار کہنے پر میری بھی دل آزاری ہوئی ہے، لاہور ہائی کورٹ میں بیان حلفی داخل کرادیا گیا
اس عدالت کو شہریت سے متعلق سماعت کا اختیار نہیں، عاصمہ جہانگیر، دلائل دیں مرضی نہ بتائیں، عدالت کااظہار برہمی
لاہور( اے پی پی) لاہور ہائی کورٹ میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی طرف سے پیش کئے جانے والے بیان حلفی میں فوج کے خلاف بیان بازی کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے اور نہ ہی انہوں نے اپنی سابقہ تقریروں پر معافی مانگی ہے بلکہ انہوں نے اپنے بیانات پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں جسٹس مظہر اقبال سدھو، جسٹس ارم سجاد گل پر مشتمل 3رکنی فل بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ الطاف حسین کی وکیل عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ میڈیا میں الطاف حسین کے بیانات پر پابندی قانون کے مطابق نہیں ہمیں سنے بغیر فیصلہ دیا گیا۔ جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ ایک ہی بات بار بار نہ دہرائیں۔ آپ اپنے دلائل دیں۔ عدالت اپنا فیصلہ دیگی۔ اگر فیصلہ قبول نہ ہو تو چیلنج کر سکتے ہیں۔ عاصمہ نے الطاف حسین کی جانب سے تین صفحات پر مشتمل بیان حلفی عدالت میں جمع کرایا جس میں کہا گیا ہے کہ اگر میرے بیانات سے کسی کی دل آزادی ہوئی ہو تو مجھے افسوس ہے متحدہ کے کارکنوں کو غدار کہنے سے ان کی بھی دل آزادی ہوتی ہے۔ الطاف حسین کاکہنا تھا کہ ان کے بیانات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا اور تین چینلز کے مختلف پروگرامز میں اس کی وضاحت بھی کر چکے ہیں۔ وفاق کے وکیل نے الطاف حسین کی شہریت سے متعلق ریکارڈ عدالت میںپیش کیا۔ عدالت نے استفسار کیا کہ الطاف حسین پاکستانی شہری ہیں یا نہیں جس پر عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ عدالت پیمرا کو ہدایت دے سکتی ہے مگر شہریت سے متعلق اس عدالت کو اختیار سماعت نہیں جس پر عدالت نے عاصمہ جہانگیر پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ اپنے دلائل دیں عدالت کو اپنی مرضی نہ بتائیں۔ درخواست گزاروں کے وکیل نے کہا کہ الطاف حسین کا بیان حلفی پاکستانی ہائی کمیشن سے تصدیق شدہ نہیں لہٰذا اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت9 اکتوبر تک ملتوی کرتے ہوئے فریقین کے وکیل کو الطاف حسین کے بیان حلفی پر بحث کیلئے طلب کر لیا۔

Tags: