کارروائی کا خوف کراچی میں 70 گوٹھوں کی الاٹمنٹ منسوخ کرنے کا حکم جاری

October 3, 2015 3:58 pm0 commentsViews: 32

گوٹھوں کی 3456 ایکڑ زمین کی الاٹمنٹ ضروری قانونی شرائط پوری کئے بغیر ہوگئی‘ وزیر اعلیٰ سندھ کو سمری
منسوخ ہونے والے گوٹھوں میں 50 ہزار گھر‘ پکی سڑکیں اور سرکاری عمارتیں تعمیر ہوچکی ہیں‘ منسوخی عدالت میں چیلنج کی جاسکتی ہے
کراچی( نیوز ڈیسک) حکومت سندھ نے کراچی کے 70گوٹھوں کی3456 ایکڑ زمین کی الاٹمنٹ منسوخ کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے‘ محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں اعتراف کیا گیا ہے‘ ضلع ملیر کے شہری علاقے کے گوٹھوں کے نام پر2012 میں اربوں روپے مالیت میں زمین کی یہ غیر قانونی الاٹمنٹ بھی وزیراعلیٰ سندھ کی منظوری سے محکمہ لینڈ یوٹیلائزیشن نے کی تھی ‘نیب کی کارروائی سے بچنے کیلئے وزیراعلیٰ سندھ کو گزشتہ دنوں بھیجی گئی سمری میں بتایا گیا کہ زمین کی الاٹمنٹ ضروری قانونی شرائط پورے کئے بغیر ہوگئی ‘ اس لئے اگر یہ الاٹمنٹ منسوخ نہیں کی گئی تو حکومت سندھ کیخلاف کارروائی ہوسکتی ہے‘ محکمہ ریونیو نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ منسوخ کردہ گوٹھوں میں50 ہزار سے زائد گھر تعمیر ہیں جن میں لاکھوں لوگ آباد ہیں‘ نوٹیفکیشن کے مطابق جن گوٹھوں کی الاٹمنٹ منسوخ کی گئی ان میں صفوراں کے علاقے میں قائم4040 گھروں کی آبادی والا بھٹائی آباد‘ 3050 گھر والا دھنی بخش گوٹھ‘10 ہزار گھروں والا فقیر محمد اور 8 ہزار گھروں والا بلاول شاہ نورانی گوٹھ‘ حاجی رمضان گبول‘ غازی گوٹھ‘ ایوب گوٹھ‘ آسو گوٹھ‘ صاحب داد اور پیر صبغت شاہ اللہ گوٹھ ‘پریو گبول گوٹھ‘ بلوچ خان حیدر بخش گبول‘ سخی داد کریم‘رمضان لاسی‘ عارف خاصخیلی‘ دائود گوٹھ‘ حاجی سکھیو گوٹھ اور دیگر گوٹھ شامل ہیں‘ ذرائع کے مطابق منسوخ شدہ گوٹھوں میں سے اکثر گوٹھوں میں پکے گھروں کے علاوہ سڑکیں‘ اسکول اور دیگر سرکاری عمارتیں بھی تعمیر ہوچکی ہیں‘ اس لئے نہ صرف حکومت کیلئے زمینیں خالی کرنا انتہائی مشکل ہوگا بلکہ ان گوٹھوں کے مکین الاٹمنٹ آرڈرز کی منسوخی کو عدالت میں بھی چیلنج کرسکتے ہیں۔

Tags: