تصدیق کرنا ضروری ہے چیئرمین سینیٹ کا متحدہ کے استعفے منظور کرنے سے انکار

October 6, 2015 4:14 pm0 commentsViews: 20

لگتا ہے کہ کچھ ارکان کے استعفے رضا کارانہ نہیں یہ بطور احتجاج دیئے گئے ہیں‘ چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی ڈاکخانے کا کردار ادا نہیں کرسکتے
کوئی رکن پارلیمنٹ 40 دن تک مسلسل غیر حاضر رہے تو رکنیت ختم ہونے کا قانون فوری لاگو نہیں ہوتا‘ رضا ربانی کی رولنگ
اسلام آباد( نیوز ڈیسک) چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے ایم کیو ایم کے استعفوں پر رولنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کے استعفے منظور نہیں کرسکتا‘ لگتا ہے کہ کچھ ارکان کے استعفے رضاکارانہ نہیں‘ یہ صرف بطور احتجاج دیئے گئے‘ استعفوں کے بارے میں چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی بورڈ ڈاک خانہ کا کام نہیں کرسکتے‘ استعفوں کے رضا کارانہ اور درست ہونے کی تصدیق ضروری ہے۔ سینیٹ کے اجلاس میں16 ستمبر کو اعتزاز احسن نے ایشو اٹھایا تھا کہ چیئرمین ایم کیو ایم کے استعفوں کے متعلق ایوان کو آگاہ کریں۔ رولنگ دینے سے قبل چیئرمین نے سینیٹ ارکان کو استعفوں سے متعلق آئین کی شقیں بتائیں اور ماضی میں استعفوں پر ہونیوالے فیصلوں کے حوالے سے ایوان کو آگاہ کیا۔ رولنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے استعفے منظور نہیں کرسکتا‘ یہ رولنگ مستقبل میں کام آئیگی‘ انہوں نے کہا کہ جب کوئی ممبر 40 دن مسلسل غیر حاضر رہے تو رکنیت ختم ہونے کا قانون فوری لاگو نہیں ہوجاتا‘ استعفوں کے معاملے پر مکمل صورتحال کا جائزہ لینے کی ضرورت ہوتی ہے‘ جب اکٹھے استعفے آتے ہیں تو ان کے رضا کارانہ اور درست ہونے کی تصدیق کی جاتی ہے‘ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے ممبرز سے فرداً فرداً تصدیق کی ہے‘ جس سے یہ لگتا ہے کہ ایم کیو ایم کے استعفے احتجاجاً دیئے گئے تھے‘ استعفوں کے پیچھے سیاسی ایجنڈا تھا جس کی بناء پر استعفے منظور نہیں کئے گئے‘ متحدہ کے کچھ اراکین کے استعفوںسے لگتا ہے کہ وہ رضاکارانہ نہیں۔

Tags: