اتر پردیش، گائے کے گوشت پر مسلم کش فسادات کی سازش ناکام

October 6, 2015 5:06 pm0 commentsViews: 25

ہندو انتہا پسند تنظیم کا برقعہ پوش کارکن مندر کے سامنے گوشت پھینکتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا، پولیس کے حوالے
بنارس میں مذہبی تقریب میں پولیس کی رکاوٹ پر فسادات پھوٹ پڑے، متعدد گاڑیاں نذرآتش، کرفیو نافذ
نئی دہلی( مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی ریاست اترپردیش میں ہندو مسلم فسادات کرانے کی سازش ناکام ہوگئی‘ انتہا پسند ہندو تنظیم کا برقع پوش کارکن لڑکیوں کے کپڑے پہن کر مندر پر گوشت پھینکتے ہوئے پکڑا گیا‘ میڈیا رپورٹ کے مطابق انتہا پسند ہندو تنظیم راشتریہ سبویم سیوک ( آر ایس ایس) کا ایک کارکن مسلمان لڑکی کا روپ دھارے مندر پر گوشت پھنک رہا تھا کہ اسے رنگے ہاتھوں شہریوں نے پکڑ لیا‘ کارکن نے برقعے کے ساتھ سرخ رنگ کا سوٹ پہنا ہوا تھا اور نظر والا چشمہ بھی لگایا ہوا تھا‘ شہریوں نے پکڑنے کے بعد اسے پولیس کے حوالے کردیا‘ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے حلقہ انتخاب بنارس میں ہندو کے گنیش دیوتا کے پانی میں ٹھنڈا کرنے کی تقریب پر پولیس کا لاٹھی چارج کرنے سے فساد پھوٹ پڑے‘ شہریوں کی پولیس سے جھڑپیں‘ پتھرائو‘ گاڑیوں کو آگ لگادی‘ پولیس کا جوابی لاٹھی چارج‘ آنسو گیس کی شیلنگ ‘ درجنوں زخمی‘ مختلف علاقوں میں کرفیا لگادیا گیا‘ دریائے کنگنا پر پنڈٹ اور پجاریوں پر لاٹھی چارج کردیا جس پر مشتعل افراد نے پولیس پر حملہ کردیا جس نے پر تشدد صورت اختیار کرلی اور مشتعل شہریوں نے پولیس کی گاڑیوںکو آگ لگانا شروع کردی جس پر پولیس نے آنسو گیس کے شیل پھینکے اور لاٹھی چارج کیا۔

Tags: