سندھ حکومت کی ناکامی کراچی کے داخلی و خارجی راستوں پر مانیٹرنگ کا کوئی نظام نہیں

October 6, 2015 5:15 pm0 commentsViews: 39

لنک روڈز سمیت کئی راستے شہر میں داخل اور خارج ہونے کیلئے محفوظ شمار ہوتے ہیں جہاں قانون نافذ کرنے والے ادارے موجود نہیں ہوتے
راستوں پر مؤثر رکاوٹ نہ ہونے کی وجہ سے کراچی میں درجنوں نئے علاقے آباد ہوگئے جہاں فرقہ وارانہ دہشت گردی ہوتی ہے
کراچی( نیوز ڈیسک) شہر کے قائد کے تین مرکزی داخلی و خارجی راستوں پر دہشت گردوں ‘اسمگلروں اور جرائم پیشہ عناصر کی مانیٹرنگ اور ان کو روکنے کا کوئی منظم انتظام نہیں‘ کیمرے نصب نہیں‘ ویڈیو بنانے کا نظام بھی ختم ہوگیا‘ صرف مسافروںبسوں کی سرسری تلاشی لی جاتی ہے‘ خفیہ اطلاع پر مخصوص متعلقہ ادارے ناکہ لگا لیتے ہیں‘ لنک روڈ پر دیگر خفیہ راستے کراچی میں داخل وخارج ہونے کے بے ضرر راستے شمار ہونے لگے جہاں قانون نافذ کرنے والے کسی بھی ادارے کا کوئی اہلکار موجود نہیں ہوتا‘ سندھ حکومت نے گزشتہ5برسوں میں امن و امان پر ایک کھرب روپے سے زائد خرچ کر ڈالے لیکن شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر مانیٹرنگ اور رجسٹریشن کا کوئی باقاعدہ نظام نہ بناسکی‘ داخلی و خارجی راستوںپر موثر رکاوٹ نہ ہونے کی وجہ سے کراچی میں درجنوں نئے علاقے آباد ہوگئے‘ شہر کے مضافاتی اور خصوصاً پہاڑی علاقوں میں مذہبی شدت پسندوں کی تعدادمیں اضافہ ہوا جس کی بناء پر شہر کو مذہبی‘ فرقہ وارانہ‘ لسانی بنیادوں پر دہشت گردی کا سامنا کرناپڑرہا ہے‘ ایک ماہ قبل ٹول پلازہ پر رینجرز نے بڑی گاڑیوں کی اسکینگ کیلئے وہیکل اسکینگ سسٹم نصب کیا جس سے اسلحہ‘ منشیات و دیگر غیر قانونی اشیاء کی نشاندہی ہوسکے گی لیکن جرائم پیشہ عناصر کی شناخت کا کوئی سسٹم نہیں لگایا جاسکتا۔

Tags: