ملکی تاریخ میں پہلی بار پولیس نے رینجرز کیخلاف اغوا ء کے اشتہارات شائع کرادیئے

October 7, 2015 3:17 pm0 commentsViews: 27

اخبارات میں شائع اشتہارات میں بتایا گیا ہے کہ 6 شہریوں کو نامعلوم رینجرز اہلکار اغواء کرکے لے گئے ہیں
اقدام پیپلز پارٹی کی حکومت کا اعلان جنگ ہے‘ جس ڈی ایس پی کو ذمہ دار قرار دیا جارہا ہے اس کو معاملے کا علم ہی نہیں‘ ذرائع کا دعویٰ
کراچی( نیوز ڈیسک) کراچی پولیس نے ملکی تاریخ میں پہلی بار رینجرز کے خلاف اخبارات میں اشتہار شائع کرا دئے، قومی اخبارات میں پولیس کی جانب سے شائع ہوئے ہیں جن میں رینجرز اہلکاروں پر اغواء کے مقدمے کے حوالے سے عوام کو مطلع کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پانچ اشتہار شائع کئے گئے ہیں۔ ان میں مختلف افراد کے نام اور تصاویر کے ساتھ کہا گیا ہے کہ ان کو رینجرز اہلکار اغواء کرکے لے گئے ہیں اشتہار کے متن میں کہا گیا ہے کہ عوام الناس کو مطلع کی جاتا ہے کہ لا پتہ افراد جس کا نام ولدیت اور پتہ دیا گیا ہے کو نا معلوم رینجرز اہلکار اٹھا کر لے گئے ہیں اس کے مطابق مقدمہ بجرم دفعہ 365/34 تغریرات پاکستان کے تحت درج ہوا ہے۔ اس کی تفتیش کی جا رہی ہے۔ اگر کسی کو اس بارے میں معلومات ہوں تو تھانہ اورنگی ٹائون یا زیر دستخطی کو اطلاع دیں۔ نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔ اس طرح کے6 افراد کے نام اور تصویریں دی گئی ہیں۔ یہ اشتہار ڈی ایس پی اورنگی فخر الاسلام عثمانی کی جانب سے دیا گیا ہے۔ جو سید نادر شاہ، فواد کوشمس، احسان اللہ، طاہر علی، ابرار احمد اور وحید علی کے لا پتا ہونے سے متعلق ہے۔ رینجرز اہلکاروں پر جوشق لگائی گئی ہے اس دفعہ کے تحت سزا سات سال تک ہے۔ سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے ہماری اطلاعات کے مطابق شہریوں کی غیر قانونی حراست اور گمشدگی کی پٹیشن پر25 جولائی کو پولیس اور رینجرز اہلکاروں کے خلاف لواحقین کے بیانات پر ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت کی تھی جس کے مطابق اب تک کراچی کے مختلف تھانوں میں رینجرز کے نا معلوم اہلکاروں کے خلاف چالیس سے زائد مقدمات درج ہو چکے ہیں۔ ان میں الزام یہ ہے کہ ان افراد کو رینجرز اہلکار اٹھا کر لے گئے ہیں اور انہیں اغواء کیا گیا ہے باقاعدہ اخباری اشتہار کے ذریعے بھی یہ اطلاع دی گئی ہے جو کراچی آپریشن کے حوالے سے ایک بہت بڑی پیش رفت ہے۔ اس قسم کے الزامات کی تشہیر اس سے پہلے پاکستان میں کبھی نہیں ہوئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ پیپلز پارٹی کی حکومت کا اعلان جنگ ہے۔ لاکھوں روپے کے اشتہارات صوبائی حکومت کی مرضی کے بغیر شائع نہیں ہو سکتے۔

Tags: