برطانوی خفیہ ایجنسی بھی پاکستان میں کمیونیکیشن ڈیٹا کی جاسوسی میں ملوث

October 7, 2015 3:37 pm0 commentsViews: 23

جی سی ایچ کیو نے برطانوی حکومت کی اجازت سے جاسوسی کی‘ کمپیوٹر نیٹ ورک ایکسپلوٹیشن کا استعمال کرتے ہوئے معلومات حاصل کی گئیں
اسمارٹ فونز کو سیکورٹی ایجنسیوں کی رسائی سے محفوظ رکھنا ناممکن ہے‘ برطانوی خفیہ ایجنسی کے پاس فون ہیک کرنے کی ٹیکنالوجی موجود ہے‘ سنو ڈن کا انکشاف
ماسکو ( مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی سی آئی اے کے اہلکار ایڈورڈ اسنوڈن نے امریکی اور برطانوی خفیہ ادارہ ایجنسیوں کے رازوں میں سے ایک راز افشا کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی خفیہ ایجنسی گورنمنٹ کمیونیکیشنز ہیڈ کوارٹرز ( جی سی ایچ کیو) پاکستان میں کمیونیکیشن ڈیٹا کی نگرانی میں ملوث رہی ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ایڈورڈ اسنوڈن نے کہا کہ کمیونی کیشن ڈیٹا تک رسائی کے لئے برطانوی خفیہ ایجنسی کی جانب سے کمپیوٹر نیٹ ورک ایکسپو ئیشین ( سی این ای) کا استعمال کرتے ہوئے ٹیکنا لوجی کمپنی سسکو کے رائٹرز کو ہیک کرکے معلومات حاصل کی گئیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ جاسوسی برطانوی حکومت کی اجازت سے کی گئی تھی اور بظاہر اس کا مقصد دہشت گردوں کی شناخت اور نشاندہی میں مدد کرنا تھا۔ سی آئی اے کے سابق اہلکار کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں جی سی ایچ کیو اور امریکی خفیہ ادارے نیشنل سیکورٹی ایجنسی ( این ایس اے) جیسے خفیہ ادارے نیٹ ورک سروس پروائیڈر کے علم میں لائے بغیر خفیہ طور پر ان نیٹ ورکس سے جڑے ایسے آلات تک مکمل رسائی پالیتے ہیں جن میں ان کی دلچسپی ہو۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق انہوں نے اسمارٹ فونز کو ہیک کرکے ان کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنے کے حوالے سے کہا کہ جدید اسمارٹ فونز کو سیکورٹی ایجنسیوں کی رسائی سے محفوظ رکھنا تقریبا نا ممکن ہے۔ اور ایسے فون استعمال کرنے والے اپنی معلومات کے بچائو کیلئے نہ ہونے کے برابر اقدام ہی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ برطانوی خفیہ ادارہ جی سی ایچ کیو کے پاس یہ ٹیکنا لوجی موجود ہے کہ وہ فون کے مالک کے علم میں آئے بغیر فون ہیک کر سکے، ایڈورڈ سنوڈن کا کہنا تھا کہ جی سی ایچ کیو ایک انکرپٹڈ تحریری پیغام بھیج کر کسی بھی اسمارٹ فون کو تصاویر کھینچنے یا اس پر کی جانے والی بات چیت سننے کیلئے استعمال کر سکتے ہیں۔

Tags: