سیاسی جماعت نے 12 کروڑ بھتہ مانگا تھا فیکٹری کو آگ لگانے اور قتل کی دھمکیاں دی گئیں مالکان علی انٹرپرائز

October 7, 2015 3:50 pm0 commentsViews: 27

سانحہ بلدیہ حادثہ نہیں بھتے کی سازش تھی‘ ہماری جانوں کو شدید خطرات ہیں سیاسی جماعت سے بھتہ ادا کرنے کی کال آئی تھی
سیاسی جماعت کے مرکز جاکر بھتہ کم کرنے کی کوشش کی جواب میں دھمکیاں دی گئیں‘ فیکٹری مالکان نے اہم رازوں سے پردہ اٹھایا
کراچی( اسٹاف رپورٹر) سانحہ بلدیہ کے حوالے سے قائم جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے ارکان نے دوسرے روز بھی دبئی میں قائم پاکستانی سفارتخانے میں علی انٹر پرائزز کے مالکان سے انٹرویوجاری رکھا‘ مالکان نے انٹرویو کی کوریج کرنے پر صحافیوں سے شدید ناراضگی کااظہار کیا‘17 صفحات پر مشتمل انٹرویو میں مالکان نے بھتے‘ فیکٹری کے اندرونی معاملات سمیت اہم رازوں سے پردہ اٹھایا‘ ذرائع نے د عویٰ کیا کہ ٹیم ایک اور انٹرویو کے بعد واپس آکر رپورٹ وزیراعظم کو ارسال کردیگی‘ معلوم ہوگیا ہے کہ سانحہ بلدیہ بھتے کی سازش تھی‘ انتہائی باخبر ذرائع کے مطابق سانحہ بلدیہ کے حوالے سے وزیراعظم پاکستان کی ہدایت پر قائم کی جانیوالی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے ارکان نے دوسرے روز بھی دبئی میں قائم پاکستان سفارت خانے میں علی انٹرپرائزز کے مالکان ارشد اور شاہد بھائیلہ سے انٹرویو کیا اور ان سے والد کی عدم موجودگی کے بارے میں استفسار کیا جس پر ان کو بتایا گیا کہ والد کی طبیعت کی نا سازی کی وجہ سے انٹرویو میں شریک نہیں ہوسکے۔ فیکٹری مالکان نے بتایا کہ فیکٹری میں ایک سیاسی جماعت کے افراد کی آمد و رفت شروع ہوگئی‘ منصور نے فیکٹری کے اندرونی اور انتظامی معاملات میں بھی مداخلت شروع کردی تھی ‘لسانیت کو فروغ دینے کیلئے فیکٹری میں اجلاس منعقد کئے جاتے تھے اور کسی بھی شخص کو اس کیخلاف بولنے کی اجازت نہیں تھی‘ سانحہ سے قبل کے حالات کے بارے میں انہوں نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ ایک سیاسی تنظیم کی جانب سے بھتے کی کال آتی رہتی تھی‘ جسے ہم ادا بھی کرتے رہے تاہم اچانک ہمیں 12 کروڑ روپے بھتے کی ادائیگی کا حکم دیا گیا جس پر ہم نے کہا کہ رقم بہت زیادہ ہے اور اسی حوالے سے اہم سیاسی رہنمائوں سے ملاقات بھی کی اور بھتے کی رقم کو کم کرنے کی درخواست کی تاہم ہمیں جواب دیا گیا کہ عدم ادائیگی پر فیکٹری کو آگ لگانے کے ساتھ تم سب کو جان سے بھی ماردیا جائیگا‘ ذرائع نے دعویٰ کیا کہ اب تک ہونیوالے انٹرویو سے اس بات کی تصدیق ہوگئی ہے کہ سانحہ حادثہ نہیں بھتے کی سازش تھی جس میں ایک سیاسی تنظیم کے افراد ملوث ہیں اور جلد ہی مکمل انٹرویو کی تفصیلات وزیراعظم کو ارسال کردی جائیں گی۔ دوسری جانب انٹرویو سے قبل میڈیا کے نمائندوں کو دیکھ کر فیکٹری کے مالکان برہم ہوگئے اور شدید ناراضگی کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہماری جان کو شدید خطرات لاحق ہیں‘ ہمیں میڈیا پر لاکرمزید پریشانی میں مبتلا کررہے ہیں۔

Tags: