تیل کی خریداری اور فروخت میں بڑے پیمانے پرکرپشن کا انکشاف

October 7, 2015 3:55 pm0 commentsViews: 23

تیل کے ساحل تک پہنچنے اور ٹینکرز میں منتقل ہونے تک2.1 ارب روپے کا تیل غائب کر دیا جاتا ہے
کراچی(اسٹاف رپورٹر)پاکستان میں تیل کی خریداری سے لے کر عوام کو فراہمی تک کرپشن ہی کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔ دنیا میں تیل 60 فیصدسستا ہوامگر پاکستان میں حکومت نے عوام کوصرف 35فیصد کا فائدہ پہنچایا۔ من پسند ڈیلرز اور آئل ریفائنریز کوفائدہ پہنچایا گیا۔تفصیلات کے مطابق معروف تجزیہ کار ڈاکٹر فرخ سلیم کے مطابق پاکستان دوسرے ممالک کی نسبت عالمی سطح پر8 سے 10فیصد زیادہ قیمت پر تیل خریدتا ہے اور یہ سلسلہ پچھلے15 برس سے چل رہا ہے۔آئل ریفائنری کو ٹیکنالوجی بہتر بنانے کیلئے ٹیکس لگایا گیا لیکن اس کا فائدہ بھی انہیں کمپنیوں کو ہورہا ہے۔ ڈاکٹرفرخ سلیم کے مطابق ساحل پر تیل لیکر آنے والے جہاز سے لیکر ٹینکر تک پہنچنے میں آئل مافیا 2.1ارب روپے کا تیل غائب کر دیتا ہے جس کا تمام بوجھ بھی عوام پر پڑتا ہے۔عوام کو ٹیکسوں اورکرپشن کی مد میں100ارب روپے کا ٹیکہ لگ جاتا ہے۔ ڈاکٹر فرخ سلیم کے مطابق 2013 اور2014 میں اگست، ستمبر اور اکتوبر کے مہینوں میں فیورٹ پٹرول پمپس کو تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بارے میں دو روز پہلے آگاہ کر دیا گیا جس کے نتیجے میں75کروڑ روپے بھی عوام کے کھاتے میں ڈال دیئے گئے۔

Tags: