کراچی میں یومیہ5 لاکھ کا گٹکا فروخت ہوتا ہے

October 7, 2015 4:03 pm0 commentsViews: 155

گٹکا کھانے والوں کا بہترین علاج کرنے کے باوجود زندہ بچنے کے امکانات50 فیصد رہ جاتے ہیں، ڈاکٹر وارث
خیبر پختونخوا میں3 کروڑ یومیہ کی نسوار استعمال کی جاتی ہے، ہیلتھ کیئر ڈے کے موقع پر نوجوانوں کو بچنے کا مشورہ
کراچی(اسٹاف رپورٹر)خیبر پختونخواہ میں روزانہ 3کڑوڑ روپے کی نسوار استعمال کی جاتی ہے جبکہ کراچی میں روزانہ چار سے پانچ لاکھکا گٹکا بہ آسانی فروخت ہوجاتا ہے،ایک تحقیق کے مطابق 13سے 15 سال کی عمر کے نوجوانوں میں گٹکا اور نسوار کے استعمال کے رحجان میں بہت تیزی کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔یہ بات آغا خان یونیورسٹی میڈیکل ہسپتال کے ڈاکٹر محمد وارث پنجانی نے گزشتہ شام محمد علی جناح یونیورسٹی کراچی میں منائے جانے والے ہیلتھ کئیر ڈے کے موقع پر دیئے جانے والے ایک لیکچر کے دوران بتائی۔ انہوں نے کہا کہ پان،چھالیہ،چونا،گٹکا، نسوار اور سگریٹ کے استعمال کی بنا پر منہ اور پھیپھڑوںکے کینسر کے 70فی صد امکانات پیدا ہوجاتے ہیں ،کینسر ہوجانے کے بعد ایک مریض کی جانب سے پانچ سال تک بہترین علاج کرانے کے باوجود اس کے زندہ بچنے کے امکانات 50 فی صد رہ جاتے ہیں اور اگر وہ بچ بھی جائے تو کسی نہ کسی معذوری کا شکار ہوجاتا ہیں۔انہوں نے بتایا کہ گٹکا استعمال کرنے والے افرادنفسیاتی بیماریوں کا بھی شکار ہوجاتے ہیں جن میں بے خوابی اور ڈپریشن قابل ذکر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل سگریٹ نوشی کے عادی افراد بالآخر پھیپھڑوںکے سرطان کا شکار ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی جان بچانے کے امکانات بہت کم ہوجاتے ہیں۔ سگریٹ،شیشہ، نسوار،پان،چھالیہ،چونا اور گٹکا کے استعمال سے اپنے آپ کو دور رکھیں۔

Tags: