سلمان تاثیر قتل کیس میں ممتاز قادری کی سزائے موت برقرار فیصلہ چیلنج کرینگے‘ وکلاء

October 8, 2015 12:59 pm0 commentsViews: 19

کم سے کم سزا دی جائے‘ دہشت گردی کی دفعہ نہیں بنتی‘ قانون میں جو ترمیم کی گئی ہے اس سے جہاد کو نقصان اور آپریشن ضرب عضب متاثر ہوگا‘ وکلاء کے دلائل
اس طرح ہر کسی کو اجازت دیدی گئی تو معاشرہ فساد کا مجموعہ بن جائے گا‘ یہ مخصوص ذہنیت ہے‘ جسٹس آصف سعید کھوسہ کے ریمارکس بلدیاتی انتخابات
اسلام آباد( خبر اجنسیاں) سپریم کورٹ نے سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر قتل کیس میں ممتاز قادری کی سزائے موت کے خلاف اپیل متعدد کر دی، عدالت نے ممتاز قادری کی سزائے موت بر قرار رکھنے کا حکم دیتے ہوئے انسداد دہشت گردی عدالت کا فیصلہ بحال کر دیا۔ ممتاز قادری کے خلاف دہشت گردی کے دفعات ختم کرنے کا اسلام آباد ہائی کورٹ کا حکم کالعدم قرار دے کر سیون اے ٹی اے بحال کرنے سے متعلق وفاق کی درخواست منسوخ کر دی گئی۔ سپریم کورٹ میں ممتاز قادری کی سزائے موت کے خلاف اپیل کی سماعت ہوئی۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے3 رکنی بنچ نے ممتاز قادری کی اپیل کی سماعت کی۔ دوران سماعت وفاق کی طرف سے موقف اپنایا گیا کہ توہین رسالت ﷺ کا قانون موجود ہے لیکن وہ کسی کو انفرادی طور پر یہ حق نہیں دیتا کہ خود ہی فیصلہ کرے، اس کا فیصلہ صرف عدالت ہی کر سکتی ہے۔ جبکہ ممتاز قادری کے وکلاء نے بھی اپنے دلائل مکمل کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ ہمارے موکل نے توہین رسالت کرنے پر سلمان تاثیر کو قتل کیا۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد وفاق کی7 اے ٹی اے کی دفعات بحال کرنے کی اپیل منظور کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور دہشت گردی کی دفعات بحال کر دیں جبکہ ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔ ممتاز قادری کی جانب سے خواجہ شریف اور نذیر اختر ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ اگر اس طرح کسی کو اجازت دے دی گئی تو معاشرہ فساد کا مجموعہ بن جائے گا۔ عدالتی فیصلے سے اصلاح ممکن نہیں ہے اس کیلئے معاشرے میں برداشت کا کلچر پروان چڑھانے کی ضرورت ہے۔ معاشرے برداشت کے بغیر نہیں رہ سکتے، یہ مخصوص ذہنیت ہے جس کو اسکولوں، کالجوں، دفاتر اور دیگر جگہوں پر پروان چڑھایا جاتا ہے۔ اس پر ممتاز قادری کے وکیل نذیر اختر نے کہا کہ ناموس رسالت ﷺ کے متعلق مقدمے قصاص اور دیت نہیں ہے جہاں حد جاری نہ ہو وہاں تغریر کے تحت سزا دی جا سکتی ہے۔ نئے قانون میں جو ترمیم کی گئی ہے اس میں نہ صرف جہاد کو نقصان ہوگا بلکہ دہشت گردوں کے خلاف جاری ضرب عضب بھی متاثر ہوگا۔ ممتاز قادری کے وکیل نذیر اخترنے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی درخواست دیں گے اور عدالت عظمیٰ کے شریعت ایلیٹ بنچ میں فیصلے کو بھی چیلنج کریں گے۔

Tags: