ماتمی جلوسوں کے دوران سبیلوں کے پانی اور کھانے میں زہرملانے کا خدشہ

October 9, 2015 3:17 pm0 commentsViews: 51

محرم الحرام میں دہشت گردوں کاایک گروپ کوئی بڑی کارروائی کرسکتا ہے،حساس اداروں نے صوبائی حکومت کو خدشات سے آگاہ کردیا
ملک دشمن عناصر کی جانب سے محرم میں مذہبی بنیادوں پر دہشت گردی کی دھمکیاں ملی ہیں، ہائی پروفائل دہشت گردوں کا خاتمہ کیا گیا ہے ان کے ساتھی ردعمل کے طور پر کچھ بھی کرسکتے ہیں، سیکورٹی اداروں کے خدشات
محرم الحرام میں مجالس اور جلوسوں کو تین حصار والی سیکورٹی فراہم کی جائے گی، کراچی سمیت صوبے بھر میں 1229مجالس اور384ماتمی جلوسوں کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے، 64ہزار اہلکار تعینات ہوں گے
کراچی(کرائم رپورٹر)محرم الحرام میں دہشت گرد بڑی کارروائی کرسکتے ہیں۔ماتمی جلوسوں کے دوران پانی اور کھانے میں زہر ملانے کا خدشہ ہے جبکہ سیکورٹی اداروں کی گاڑیوں کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی نے وزیر اعلی سندھ کی زیر صدارت ہونے والے اہم اجلاس میں کہا ہے کہ انٹیلی جنس ذرائع سے اطلاعات ملیں ہیں کہ دہشت گردوں کا ایک گروپ محرم الحرام کے ماتمی جلوسوں کے دوران پانی اور کھانے میں زہر ملانے سکتا ہے جبکہ سیکورٹی اداروں کی گاڑیوں کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے ، بریفنگ کے دوران آئی جی سندھ نے بتایا کہ کراچی سمیت صوبے میں 1229مجالس اور 384 ماتمی جلوسوں کو حساس قرار دیا گیا جبکہ64 ہزار 416 پولیس اہلکار تعینات ہونگے ،64 مقامات پر 243کیمرے جلوس کی گزرگاہوں کی نگرانی کریں گے ، آئی جی سندھ نے بریفنگ کے دوران بتایا کہ سیکورٹی خدشات کے پیش نظر رینجرز اور پولیس کے اہلکار مشترکہ طور پر پورے شہر میں فلیگ مارچ کریں ۔رجلوسوں کو تین حصاروالی سیکورٹی فراہم کی جائیگی ، اجلاس میں سینئر صوبائی وزیر تعلیم و اطلاعات نثار احمد کھوڑو، صوبائی وزیر داخلہ سہیل سیال، چیف سیکریٹری سندھ صدیق میمن ، ڈی جی رینجرز میجر جنرل بلال اکبر ، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری علم الدین بلو، سیکریٹری داخلہ مختار سومرو، آئی جی پولیس سندھ غلام حیدر جمالی ، ایڈیشنل آئی جی کراچی مشتاق مہر نے شرکت کی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ بعض مذموم عناصر کی جانب سے مذہبی بنیادوں پر دہشت گردی اور ملک دشمن عناصر کی جانب سے دہشت گردی کے حوالے سے دھمکیاں ملی ہیں ، چند ہائی پروفائل دہشت گردوں کا خاتمہ کیا گیا ہے لہذا وہ اس کے ردعمل میں کچھ بھی کر سکتے ہیں، قانون نافذکرنے والے ادارے ان مذموم عناصر کی سرگرمیوں پر کڑی نگاہ رکھے ہوئے ہیں ، آئی جی سندھ پولیس نے اجلاس کو بتایا کہ یکم محرم سے نکلنے والے جلوسوں کے دوران دہشت گردی کی کاروائیوں ، پانی /کھانے میں زہر ملانے‘ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کا بہروپ بھرنا اور گاڑیوں کے استعمال سے متعلق اطلاعات اور دھمکیاں ملی ہیں، وزیراعلیٰ سندھ نے آئی جی سندھ سے کہا کہ انہوں نے فیلڈ یونٹس کے لئے کیا گائیڈ لائین جاری کی ہیں ، اس پر انہوں نے کہا کہ پولیس نے حساس مقامات اور مشکوک عناصر کی نگرانی شروع کر دی ہے،انہوں نے کہا کہ ہم نے رینجرز اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کے باہمی تعاون سے وسیع پیمانے پر سرچ اور سوئیپ آپریشن شروع کیا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ روٹس اور جلوسوں کے مقامات کے سروے کا کام جاری ہے ،وزیراعلیٰ سندھ نے آئی جی سندھ کو ہدایت کی کہ لاؤڈ اسپیکر کا غلط استعمال نہیں ہونا چاہیے اور وال چاکنگ اور اشتعال ااور نفرت آمیز لٹریچر شائع اور پھیلنا نہیں چاہیے اور آپ جلوسوں اور مجالس کے لئے کمانڈاور کنٹرول سینٹرز قائم کریں جس پر آئی جی سندھ نے کہا کہ یہ قائم کئے جارہے ہیں، آئی جی سندھ نے کہا کہ رینجرز کے ساتھ ملکر مشترکہ طور پر فلیگ مارچ کیا جائیگا اور اسلحہ کی نمائش اور اسلحہ لیکر چلنے پر پابندی ہوگی۔ اس پر وزیراعلیٰ سندھ نے آئی جی سندھ کو ہدایت کی کہ تمام جلوسوں کے روٹس مجالس کی فزیکل اور ٹیکنیکل طریقے سے تلاشی لی جائے اور صرف مقررہ پوائنٹس کے ذریعے ہی جلوسوں میں داخلے کی اجازت ہونی چاہیے،وزیراعلیٰ سندھ کے ایک سوال کے جواب میں آئی جی سندھ نے کہا کہ8محرم کو66مختلف مقامات پر نصب 243 کیمروں کے ذریعے نگرانی کی جائیگی 9اور10محرم کو69مقامات پر نصب 246کیمروں کے ذریعے کوریج کی جائیگی ، آئی جی سندھ نے کہا کہ جلوسوں کے ایام کے دوران اور بارگاہوں کی 30موبائل گاڑیاں جن پر کیمرے نصب ہونگے کے ذریعے نگرانی کی جائیگی۔

Tags: