ود ہولڈنگ ٹیکس کا تنازعہ حکومت اور تاجروں کے درمیان مذاکرات ناکام

October 9, 2015 4:04 pm0 commentsViews: 24

تاجروں نے0.1 فیصد اور حکومت0.2 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس پر ڈٹ گئے، آج دوسرا دور ہوگا
یومیہ تین لاکھ کی بینک ٹرانزیکشن پر ود ہولڈنگ ٹیکس وصول نہ کرنے اور انکم ٹیکس میں3 سال تک آڈٹ چھوٹ کا مطالبہ
اسلام آباد( کامرس ڈیسک) حکومت اور تاجروں کے مابین پنجاب حکومت میں بینکاری لین دین پر عائد ود ہولڈنگ ٹیکس کا معاملہ حل کرنے کیلئے مذاکرات کا پہلا دور ناکام ہوگیا۔ تاجروں نے0.1فیصد جبکہ حکومت نے0.2 فیصد پر رضا مندی کا اظہار کیا ہے۔ آج سمجھوتہ ہونے کا امکان ہے۔ حکومت سے مذاکرات میں تاجروں نے یومیہ تین لاکھ روپے کی بینک ٹرانزکشن پر ود ہولڈنگ ٹیکس وصول نہ کرنے، پہلی مرتبہ انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کو تین سال تک آڈٹ کی چھوٹ اور سیلز ٹیکس سے نکالنے کے مطالبات بھی کئے۔ مذاکرات میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی عدم شرکت کی وجہ سے دونوں فریق کسی سمجھوتے پر نہ پہنچ سکے جبکہ مذاکرات کا اگلا دور آج اڑھائی بجے دوبارہ شروع ہوگا۔ دوران مذاکرات کئی مرتبہ ماحول تلخ ہونے پر شہباز شریف باہر جا کر وزیر اعظم سے فون پر بات کرتے رہے۔ ایک موقع پر تاجروں کی شدید تنقید کے رد عمل میں وزیر خزانہ اسحق ڈار نے مستعفی ہونے کی دھمکی بھی دیدی۔

Tags: