پولیس اور رینجرز میں غلط فہمیاں پیدا نہیں ہونے دینگے، وزیراعلیٰ سندھ

October 9, 2015 4:10 pm0 commentsViews: 23

دونوں ادارے ہمارے لیے بہت اہم ہیں، رینجرز کے خلاف اشتہارات کی تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کردی گئی
ڈی جی رینجرز سے ملاقات میں وزیراعلیٰ نے کراچی میں امن قائم کرنے کے حوالے سے خدمات کو سراہا
کراچی(کرائم رپورٹر)وزیر اعلی سندھ سید قائم علی شاہ نے اخبارات میں رینجرز کے خلاف اشتہارات کی اشاعت کے معاملے کی تحقیقات کے لئے ایک نئی4رکنی کمیٹی قائم کردی ہے جس میں ایڈیشنل آئی جی کراچی مشتاق مہر، ایڈیشنل آئی جی کاؤنٹرٹیررازم ثناء اللہ عباسی، ڈی آئی جی ٹریفک امیر شیخ اور رینجر ز کا ایک نمائندہ جو لیفٹیننٹ کرنل سے کم عہدے کا نہ ہو کمیٹی میں شامل ہوگا،تحقیقاتی کمیٹی اشتہارات کے معاملے میں ذمہ داری کا تعین کرے گی اور اس بات کا بھی جائزہ لے گی کہ ان اشتہارات کی اشاعت کے پس پردہ کوئی مذموم مقاصد تو کارفرما نہیں تھے اور اس اقدام کا مقصد پولیس اور رینجرز کے درمیان غلط فہمیاں پید اکرنا تو نہیں تھا، محکمہ داخلہ سندھ نے کمیٹی کے قیام کے سلسلے میں نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے اور کمیٹی تین دن کے اند ر رپورٹ پیش کرے گی۔

رینجرز کیخلاف اشتہارات کا
مقصد کراچی آپریشن کو نقصان
پہنچانا ہے‘ پولیس چیف
کراچی(کرائم رپورٹر)کراچی پولیس چیف مشتاق احمدمہرنے مورخہ6اکتوبر کو جاری کردہ اشتہارات سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ چند پولیس افسران کی جانب سے جاری کردہ اشتہارات کا مقصد دہشت گردوں ،انتہا پسندوں اور سیاسی گروپوں کے خلاف جاری کراچی آپریشن کو نقصان پہنچانا ہے ،ایسے ہتھکنڈوں کے باوجود پولیس رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان باہمی تعاون جاری رہے گا ،وزیر اعلیٰ سندھ نے اس بات کا سخت نوٹس لیتے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے ،جو تین دن میں انکوائری رپورٹ پیش کرے گئی اس انکوائری رپورٹ کی روشنی میں افسران کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کی جائے۔

رینجرز کے خلاف اشتہارات  نئی تحقیقاتی کمیٹی بنا دی گئی

کراچی( اسٹاف رپورٹر) رینجرز مخالف اشتہارات کی تحقیقات کیلئے وزیر داخلہ سندھ، سہیل انور سیال کی ہدایت پر قائم کی گئی تحقیقاتی کمیٹی توڑ کر نئی کمیٹی قائم کر دی گئی۔ محکمہ داخلہ سندھ نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کے حکم پر بنائی گئی کمیٹی کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی کراچی مشتاق مہر ہوں گے جبکہ ارکان میں ایڈیشنل ڈی آئی جی( سی ٹی ڈی) ثناء اللہ عباسی اور ڈی آئی جی ٹریفک امیر شیخ شامل ہیں کمیٹی تحقیقات کے ذریعے رینجرز مخالف اشتہارات کی اشاعت کے ذمہ داروں کا تعین کرے گی اور تین دن میں اپنی رپورٹ وزیر اعلیٰ سندھ کو پیش کرے گی۔

Tags: